السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: القود بين الرجال والنساء، وبين العبيد فيما دون النفس باب: جان کے علاوہ دیگر اعضاء کے تلف کرنے میں مردوں اور عورتوں، نیز غلاموں کے درمیان قصاص کا بیان۔
قَالَ الْبُخَارِيُّ فِي التَّرْجَمَةِ: يُذْكَرُ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: تُقَادُ الْمَرْأَةُ مِنَ الرَّجُلِ فِي كُلِّ عَمْدٍ يَبْلُغُ نَفْسَهُ فَمَا دُونَهَا مِنَ الْجِرَاحِ، وَبِهِ قَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو الزِّنَادِ عَنْ أَصْحَابِهِ، قَالَ: وَجَرَحَتْ أُخْتُ الرُّبَيِّعِ إِنْسَانًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْقِصَاصُ قَالَ الشَّيْخُ: أَمَّا الرِّوَايَةُ فِي ذَلِكَ عَنِ الْعُمَرَيْنِ فَقَدْ مَضَتْ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ فِي كِتَابٍ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: يُقَادُ الْمَمْلُوكُ مِنَ الْمَمْلُوكِ فِي كُلِّ عَمْدٍ يَبْلُغُ نَفْسَهُ فَمَا دُونَ ذَلِكَ.امام بخاری رحمہ اللہ نے ترجمۃ الباب میں فرمایا: ”سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا جاتا ہے کہ: ”ہر اس عمداً (کیے گئے جرم) میں جو جان تک یا اس سے کم زخموں تک پہنچے، عورت سے مرد کا قصاص لیا جائے گا۔“ اور یہی بات عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے کہی، اور ابو الزناد رحمہ اللہ نے اپنے اصحاب سے (نقل کی)۔“
انہوں نے فرمایا: ”اور ربیع کی بہن نے ایک شخص کو زخمی کر دیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”قصاص (ہوگا)۔““
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”جہاں تک اس بارے میں دونوں عمر (سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ) سے روایت کا تعلق ہے تو وہ عبدالعزیز بن عمر سے گزر چکی ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی ایک تحریر میں تھا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہر اس عمداً (کیے گئے جرم) میں جو جان تک یا اس سے کم تک پہنچے، غلام سے غلام کا قصاص لیا جائے گا۔““
وَأَمَّا حَدِيثُ أُخْتِ الرُّبَيِّعِ فَأَخْبَرْنَاهُ أَبُو مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا حَمَّادٌ، ثنا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ فَذَكَرَهُ وَذَلِكَ يَرِدُ بِتَمَامِهِ فِي مَوْضِعِهِ إِنْ شَاءَ اللهُ وَخَالَفَهُ حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، فَقَالَ: لَطَمَتِ الرُّبَيِّعُ بِنْتُ مُعَوِّذٍ جَارِيَةً فَكَسَرَتْ ثَنِيَّتَهَا وَثَابِتٌ أَحْفَظُ، وَيُحْتَمَلُ أَنَّهُمَا قِصَّتَانِ، وَهَذَا هُوَ الْأَظْهَرُ وَرُوِيَ فِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْا.انس رضی اللہ عنہ سے لمبی روایت ہے، یہ اپنی جگہ پر ان شاء اللہ آئے گی اور حمید عن انس میں کچھ مخالفت ہے کہ انس فرماتے ہیں کہ ربیع رضی اللہ عنہا نے ایک لونڈی کو تھپڑ مارا جس سے اس کے سامنے کے دانت ٹوٹ گئے تھے، لیکن ثابت اور احفظ یہی ہے کہ یہ دو قصے ہیں اور اس میں ابن عباس اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہما کی روایات ہیں۔