السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: العبد يقتل فيه قيمته بالغة ما بلغت باب: جب کوئی غلام قتل کر دیا جائے تو اس کی قیمت لازم آئے گی خواہ وہ کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو۔
حدیث نمبر: 15960
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، أَخْبَرَنِي أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَأَنْ أَجْلِسَ مَعَ قَوْمٍ يَذْكُرُونَ اللهَ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ إِلَى أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلِيَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ، وَلَأَنْ أَجْلِسَ مَعَ قَوْمٍ يَذْكُرُونَ اللهَ بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَى أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ ثَمَانِيَةً مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ، دِيَةُ كُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمُ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں ایسی قوم کے ساتھ فجر سے لے کر طلوعِ شمس تک بیٹھوں جو اللہ کا ذکر کر رہی ہو، یہ مجھے ہر اس چیز سے زیادہ محبوب ہے جس پر سورج طلوع ہوتا ہے اور میں ایسی قوم کے ساتھ بیٹھوں جو اللہ کا ذکر کر رہی ہو عصر کے بعد سے غروبِ شمس تک، مجھے یہ اس سے زیادہ محبوب ہے کہ اولادِ اسماعیل سے آٹھ ایسے غلام آزاد کروں جن کی دیت بارہ ہزار /١٢٠٠٠ ہو۔“