السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: العبد يقتل فيه قيمته بالغة ما بلغت باب: جب کوئی غلام قتل کر دیا جائے تو اس کی قیمت لازم آئے گی خواہ وہ کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَهَذَا يُرْوَى عَنْ عُمَرَ، وَعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْا قَالَ الشَّيْخُ: رَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، فِي كِتَابِ الْعِلَلِ، عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيِّ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ مَطَرٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عُمَرَ، وَعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْا فِي الْحُرِّ يَقْتُلُ الْعَبْدَ، قَالَا: ثَمَنُهُ مَا بَلَغَ. وَهَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ..امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور یہ سیدنا عمر اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔“
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اسے عبداللہ بن احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے کتاب العلل میں ابو الربیع زہرانی سے، انہوں نے ہشیم سے، انہوں نے سعید بن ابی عروبہ سے، انہوں نے مطر سے، انہوں نے حسن سے، انہوں نے احنف بن قیس سے، انہوں نے سیدنا عمر اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما سے اس آزاد شخص کے بارے میں روایت کیا ہے جو غلام کو قتل کر دے، ان دونوں نے فرمایا: ”اس کی قیمت (ادا کی جائے گی) جتنی بھی ہو۔““
اور یہ سند صحیح ہے...
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا ⦗٦٨⦘ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْعَبَّاسِ يَعْنِي الطَّبَرِيَّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فِي الْحُرِّ يَقْتُلُ الْعَبْدَ، قَالَ: " فِيهِ ثَمَنُهُ ".عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر آزاد غلام کو قتل کر دے تو اس میں اس کی قیمت ہے۔