السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
الروايات فيه عن علي رضي الله عنه باب: اس سلسلے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی روایات۔
قَدْ مَضَى حَدِيثُ أَبِي جُحَيْفَةَ وَقَيْسِ بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فِيمَا كَانَ عِنْدَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي الصَّحِيفَةِ مِنْ أَنْ لَا يُقْتَلَ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ. وَفِي ذَلِكَ دَلَالَةٌ عَلَى ضَعْفٍ مَا.سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے ابو جحیفہ اور قیس بن عباد کی حدیث گزر چکی ہے، اس بارے میں جو نبی کریم ﷺ سے (منقول) ان کے پاس صحیفے میں (لکھا ہوا) تھا کہ: ”کسی مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔“
اور اس میں اس (روایت) کے ضعف پر دلالت ہے جو...
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ، أنبأ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ الْأَسَدِيُّ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، عَنْ أَبِي الْجَنُوبِ الْأَسَدِيِّ، قَالَ: أُتِيَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِرَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَتَلَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ، قَالَ: فَقَامَتْ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةُ فَأَمَرَ بِقَتْلِهِ، فَجَاءَ أَخُوهُ فَقَالَ: إِنِّي قَدْ عَفَوْتُ، قَالَ: فَلَعَلَّهُمْ هَدَّدُوكَ وَفَرَقُوكُ وَفَزَعُوكَ، قَالَ: لَا، وَلَكِنْ قَتْلُهُ لَا يَرُدُّ عَلَيَّ أَخِي، وَعَوَّضُونِي فَرَضِيتُ. قَالَ: " أَنْتَ أَعْلَمُ مَنْ كَانَ لَهُ ذِمَّتُنَا فَدَمُهُ كَدَمِنَا، وَدِيَتُهُ كَدِيَتِنَا ". كَذَا قَالَ: حَسَنٌ، وَقَالَ غَيْرُهُ: حُسَيْنُ بْنُ مَيْمُونٍ،.ابوالجنوب اسدی فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک مسلمان آدمی لایا گیا جس نے ایک ذمی کو قتل کر دیا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کرنے کا حکم دے دیا تھا کہ اس کا بھائی آ گیا اور کہنے لگا: میں نے اسے خون معاف کیا، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تمہیں اس پر مجبور تو نہیں کیا گیا؟ وہ کہنے لگا: نہیں۔ اس کو قتل کرنے سے میرا بھائی تو لوٹ کر نہیں آ سکتا۔ انہوں نے مجھے دیت دے دی، میں راضی ہو گیا، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ جانتے ہیں کہ جو ہمارے ذمہ ہے اس کا خون اور دیت ہماری طرح ہے۔