❮
❯
حدیث نمبر: 15933
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ ابْنَ شَاسٍ الْجُذَامِيَّ، قَتَلَ رَجُلًا مِنْ أَنْبَاطِ الشَّامِ، فَرُفِعَ إِلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَمَرَ بِقَتْلِهِ، فَكَلَّمَهُ الزُّبَيْرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، فَنَهَوْهُ عَنْ قَتْلِهِ. قَالَ: فَجَعَلَ دِيَتَهُ أَلْفَ دِينَارٍ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " قُلْتُ: هَذَا مِنْ حَدِيثِ مَنْ يجْهَلُ، فَإِنْ كَانَ غَيْرَ ثَابِتٍ فَدَعِ الِاحْتِجَاجَ بِهِ، وَإِنْ كَانَ ثَابِتًا فَقَدْ زَعَمْتَ أَنَّهُ أَرَادَ قَتْلَهُ فَمَنَعَهُ أُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَجَعَ لَهُمْ. فَهَذَا عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَأُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مُجْمِعُونَ أَنْ لَا يُقْتَلَ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ، فَكَيْفَ خَالَفَتْهُمُ.
حافظ ثناء اللہ

زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن شاس جذامی نے اہل شام کے ذمیوں میں سے ایک کو قتل کر دیا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس فیصلہ آیا تو آپ نے اسے قتل کا حکم دے دیا، تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اور اصحابِ رسول اللہ ﷺ میں سے بہت سے لوگوں نے فیصلے پر اعتراض کر دیا، تو آپ نے اسے قتل سے روک دیا اور ایک ہزار دینار دیت مقرر کر دی۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے کہا: یہ ایک مجہول شخص کی روایت ہے۔ اگر یہ ثابت نہیں تو اس سے دلیل پکڑنا چھوڑ دو، اور اگر ثابت ہے تو تم نے خود یہ کہا ہے کہ انہوں نے اسے قتل کرنا چاہا تو رسول اللہ ﷺ کے کچھ صحابہ نے انہیں روک دیا اور انہوں نے ان کی بات مان لی۔ تو یہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور رسول اللہ ﷺ کے کچھ صحابہ اس بات پر متفق ہیں کہ مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا، تو تم نے ان کی مخالفت کیسے کی؟

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 15933