السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب تأكيد السواك عند القيام إلى الصلاة باب: نماز کے لیے کھڑے ہوتے وقت مسواک کی تاکید کا بیان
حدیث نمبر: 159
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ حَنْبَلٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا ⦗٦٢⦘ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ثنا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: ذَكَرَ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَفْضُلُ الصَّلَاةُ الَّتِي يُسْتَاكُ لَهَا عَلَى الصَّلَاةِ الَّتِي لَا يُسْتَاكُ لَهَا سَبْعِينَ ضِعْفًا ". وَهَذَا الْحَدِيثُ أَحَدُ مَا يُخَافُ أَنْ يَكُونَ مِنْ تَدْلِيسَاتِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، وَأَنَّهُ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ وَقَدْ رَوَاهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى الصَّدَفِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ. وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَمِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ فَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ.حافظ ثناء اللہ
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ نماز جس کے لیے مسواک کی جائے، اس نماز پر ستر درجے فضیلت رکھتی ہے جس کے لیے مسواک نہ کی جائے۔“ (یہ حدیث ان احادیث میں سے ایک ہے جن کے متعلق خدشہ ہے کہ وہ محمد بن اسحاق بن یسار کی تدلیسات میں سے ہیں اور ان کا امام زہری سے سماع ثابت نہیں ہے۔)
اسے معاویہ بن یحییٰ صدفی نے بھی زہری سے روایت کیا ہے، لیکن وہ قوی نہیں ہیں۔ یہ روایت ایک اور طریق سے عروہ عن عائشہ اور ایک اور طریق سے عمرہ عن عائشہ بھی مروی ہے، اور یہ دونوں ضعیف ہیں۔