السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: إيجاب القصاص في العمد باب: قتلِ عمد (جان بوجھ کر قتل کرنے) میں قصاص واجب ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 15884
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ، ثنا سَعِيدٌ هُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ كَثِيرٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قُتِلَ فِي عِمِّيَّا أَوْ رِمِّيَّا تَكُونُ بَيْنَهُمْ بِحَجَرٍ أَوْ سَوْطٍ، فَعَلَيْهِ عَقْلُ خَطَأٍ، وَمَنْ قَتَلَ عَمْدًا فَقَوَدُ يَدِهِ، وَمَنْ حَالَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ ". وَصَلَهُ سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ. وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ فِي آخَرِينَ عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ مُرْسَلًا،.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص غلطی سے قتل ہو گیا تو اس کی قتلِ خطا کی دیت ہے، جیسے کوئی پتھر یا کوڑا لگنے سے قتل ہو جائے اور جو جان بوجھ کر قتل کرے اس پر قصاص ہے اور جو قصاص کے درمیان حائل ہوا اس پر اللہ اور فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے اور اس کی کوئی فرضی یا نفلی عبادت قبول نہیں ہو گی۔“ عمرو نے اس حدیث کو طاؤس سے مرسلاً روایت کیا ہے۔