السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: إيجاب القصاص في العمد باب: قتلِ عمد (جان بوجھ کر قتل کرنے) میں قصاص واجب ہونے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ، ⦗٤٦⦘ عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ الرُّبَيِّعَ بِنْتَ النَّضْرِ، كَسَرَتْ ثَنِيَّةَ جَارِيَةٍ، فَعَرَضُوا عَلَيْهِمُ الْأَرْشَ فَأَبَوْا، وَعَرَضُوا عَلَيْهِمُ الْعَفْوَ فَأَبَوْا، فَأَتَوَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِالْقِصَاصِ، فَجَاءَ أَخُوهَا أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَتَكْسِرُ ثَنِيَّةَ الرُّبَيِّعِ؟ لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا تُكْسَرُ ثَنِيَّتُهَا. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَنَسُ، كِتَابُ اللهِ الْقِصَاصُ". قَالَ: فَرَضِيَ الْقَوْمُ فَعَفَوْا. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللهِ لَأَبَرَّهُ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْأَنْصَارِيِّ. وَقَدْ مَضَى حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ" فَذَكَرَ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ".سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدہ ربیع بنت نضر رضی اللہ عنہا نے ایک لڑکی کے سامنے والے دانت توڑ دیے تو وہ کہنے لگی: تم بھی کوئی زخم پہنچا دو یا معاف کر دو۔ انہوں نے انکار کیا اور فیصلہ نبی ﷺ کے پاس آ گیا تو آپ ﷺ نے قصاص کا حکم دے دیا۔ اتنے میں ان کے بھائی سیدنا انس بن نضر رضی اللہ عنہ آ گئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! کیا ربیع کے بھی دانت توڑے جائیں گے؟ اللہ کی قسم! ایسا نہیں ہو سکتا، تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”اے انس! اللہ کا فیصلہ ہے کہ قصاص ہو گا۔“ اتنے میں مدعی عفو پر راضی ہو گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے کتنے ہی بندے ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ پر قسم اٹھا لیں تو اللہ ان کی قسم کو پورا فرما دیتے ہیں۔“