السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحيض— حیض کا بیان
باب: المعتادة لا تميز بين الدمين باب: اس عادت والی عورت کا بیان جو دو قسم کے خون (حیض اور استحاضہ) کے درمیان تمیز نہ کر سکتی ہو
حدیث نمبر: 1588
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ثنا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ ثنا سُلَيْمَانُ يَعْنِي التَّيْمِيَّ عَنْ طَلْقٍ يَعْنِي ابْنَ حَبِيبٍ، قَالَ: كَتَبَتِ امْرَأَةٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فِي الدَّمِ مُنْذُ سَنَتَيْنِ فَكَتَبَتْ إِلَيْهِ تُعَظِّمُ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ عِنْدَهُ عِلْمٌ إِلَّا أَنْبَأَهَا بِهِ فَقَالَ: " تَجْلِسُ وَقْتَ أَقْرَائِهَا ثُمَّ تَغْتَسِلُ وَتُصَلِّي فَمَا أَتَى عَلَيْهَا شَهْرَانِ حَتَّى طَهُرَتْ "..حافظ ثناء اللہ
سیدنا طلق بن حبیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو اپنے دو سال سے جاری خون کے عارضہ سے متعلق استفتاء بھیجا اور لکھا کہ وہ اس پر گراں گزرتا ہے، اگر آپ کے پاس علم ہے تو مجھے اس بارے میں ضرور آگاہ فرمائیں۔ انہوں نے فرمایا: ”وہ اپنے حیض کے ایام میں بیٹھی رہے گی، پھر غسل کر کے نماز ادا کرے گی۔“ اس پر دو ماہ نہیں گزرے تھے کہ وہ تندرست ہو گئی۔