السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: تحريم القتل من السنة باب: سنتِ نبوی سے قتل کی حرمت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُبَارَكٍ، ثنا صَدَقَةُ، ثنا خَالِدُ بْنُ دِهْقَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي زَكَرِيَّا، قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ الدَّرْدَاءِ، تَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ⦗٤٠⦘ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " كُلُّ ذَنْبٍ عَسَى اللهُ أَنْ يَغْفِرَهُ إِلَّا مَنْ مَاتَ مُشْرِكًا، أَوْ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا ".ابو درداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ ”اللہ ہر گناہ معاف کر دیں گے لیکن مشرک اور کسی مومن کو ناحق قتل کرنے والے کو معاف نہیں کریں گے۔“
صدقہ کہتے ہیں کہ خالد نے فرمایا: ہانی بن کلثوم بن کناز کہتے ہیں کہ میں نے محمود بن ربیع عن عبادہ رضی اللہ عنہ کو مرفوعاً فرماتے ہوئے سنا کہ ”جو کسی مومن کو قتل کرے، پھر اس کے قتل پر خوش بھی ہو تو اس کی نہ فرضی اور نفلی کوئی عبادت قبول نہیں ہوتی۔“ ایسے ہی عبادہ رضی اللہ عنہ کی ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ ”ہمیشہ مومن صالح رہتا ہے جب تک کہ وہ ناحق خون نہ کرے۔“ خالد کہتے ہیں: میں نے یحییٰ غسانی سے پوچھا کہ قتل پر خوش ہونے سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: جو فتنے میں قتل کرے اور قتل کر کے یہ سمجھے میں حق پر تھا، اللہ اسے کبھی معاف نہیں فرمائے گا۔