السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحيض— حیض کا بیان
باب: المعتادة لا تميز بين الدمين باب: اس عادت والی عورت کا بیان جو دو قسم کے خون (حیض اور استحاضہ) کے درمیان تمیز نہ کر سکتی ہو
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَى الْعَلَاءُ بْنُ الْمُسَيِّبُ، عَنِ الْحَكَمِ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، أَنَّ سَوْدَةَ، اسْتُحِيضَتْ فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَضَتْ أَيَّامُهَا اغْتَسَلَتْ وَصَلَّتْ " قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: وَهَذَا فِيمَا رَوَاهُ ابْنُ خُزَيْمَةَ عَنِ الْعُطَارِدِيِّ، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ عَنِ الْعَلَاءِ أَتَمُّ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَى سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ عَبَّاسٍ: الْمُسْتَحَاضَةُ تَجْلِسُ أَيَّامَ قُرْئِهَا وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الشَّعْبِيُّ، عَنْ قَمِيرٍ امْرَأَةِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ وَهُوَ قَوْلُ الْحَسَنِ وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ وَعَطَاءٍ وَمَكْحُولٍ وَإِبْرَاهِيمَ وَسَالِمٍ وَالْقَاسِمِ أَنَّ الْمُسْتَحَاضَةَ تَدَعُ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا.(الف) سیدنا ابوجعفر سے روایت ہے کہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا استحاضہ والی تھیں۔ انھیں رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ ”جب اس کے حیض والے دن گزر جائیں تو غسل کرے اور نماز پڑھے۔“ (ب) امام احمد (بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عطاردی عن حفص بن غیاث عن علاء کی روایت جسے ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے، وہ اس سے زیادہ مکمل ہے۔ (ج) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے سیدنا علی اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ مستحاضہ اپنے حیض کے ایام میں بیٹھے گی۔ اسی طرح امام شعبی رحمہ اللہ نے مسروق رحمہ اللہ کی بیوی قمیر کے واسطے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے۔ یہی حسن، سعید بن مسیب، عطاء، مکحول، ابراہیم، سالم اور قاسم رحمہم اللہ کا قول ہے کہ مستحاضہ اپنے حیض کے ایام میں نماز چھوڑ دے گی۔