السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: تحريم القتل من السنة باب: سنتِ نبوی سے قتل کی حرمت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِيهُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ثنا قُرَّةُ، ح قَالَ وَأَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَبِي، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا قُرَّةُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، وَعَنْ رَجُلٍ، هُوَ فِي نَفْسِي أَفْضَلُ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ بِمِنًى فَقَالَ: " أَتَدْرُونَ أِيُّ يَوْمٍ هَذَا؟ " قَالَ: قُلْنَا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَسَكَتْ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، ثُمَّ قَالَ: " أَلَيْسَ يَوْمُ النَّحْرِ؟ ". قُلْنَا: نَعَمْ. قَالَ: " أِيُّ بَلَدٍ هَذَا؟ ". قُلْنَا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " أَلَيْسَ بِالْبَلَدِ يَعْنِي الْحَرَامَ ". قُلْنَا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ وَأَبْشَارَكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، أَلَا هَلْ بَلَّغَتُ؟ " قُلْنَا: نَعَمْ. قَالَ: " اللهُمَّ اشْهَدْ، لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ، فَإِنَّهُ ⦗٣٧⦘ رُبَّ مُبَلِّغٍ يُبَلِّغُ مَنْ هُوَ أَوْعَى لَهُ ". فَكَانَ كَذَلِكَ، وَقَالَ: " أَلَا لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ، وَغَيْرِهِ كُلُّهُمْ عَنْ أَبِي عَامِرٍ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ مُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، كِلَاهُمَا عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ.ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے منیٰ کے دن خطبہ ارشاد فرمایا اور فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو آج کون سا دن ہے؟“ ہم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ خاموش ہو گئے، ہم نے سمجھا کہ آپ ﷺ اس کا کوئی اور نام لیں گے۔ پھر فرمایا: ”کیا آج قربانی کا دن نہیں؟“ ہم نے کہا: جی ہاں! پھر پوچھا: ”یہ کون سا شہر ہے؟“ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا: ”کیا یہ حرمت والا شہر نہیں ہے؟“ ہم نے کہا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ ﷺ! تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا خون، تمہارے مال، تمہاری عزتیں اس شہر اور اس دن کی حرمت کی طرح قابل احترام ہیں۔ کیا میں نے تمہیں پہنچا دیا؟“ ہم نے کہا: جی ہاں! تو فرمایا: «اللَّهُمَّ اشْهَدْ» ”اے اللہ! گواہ بن جا۔ حاضر غائب کو یہ بات بتا دے، کیونکہ کتنے پہنچانے والے ہیں جن سے وہ لوگ زیادہ یاد رکھتے ہیں کہ جن کو پہنچائی جائے۔“ پھر فرمایا: ”میرے بعد کفر میں نہ لوٹ جانا اور پھر تم آپس میں قتل و غارت کرو۔“