السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: تحريم القتل من السنة باب: سنتِ نبوی سے قتل کی حرمت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الدَّارِ وَهُوَ مَحْصُورٌ، وَكُنَّا نَدْخُلُ مَدْخَلًا نَسْمَعُ مِنْهُ كَلَامَ مَنْ فِي الْبَلَاطِ، فَدَخَلَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ثُمَّ خَرَجَ مُتَغَيِّرَ اللَّوْنِ، قِيلَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَا شَأْنُكَ؟ قَالَ: إِنَّهُمْ لَيَتَوَاعَدُونِّي بِالْقَتْلِ آنِفًا، وَلَمْ أَسْتَيْقِنْ ذَلِكَ مِنْهُمْ حَتَّى كَانَ الْيَوْمُ، فَقُلْنَا لَهُ: يَكْفِيكَهُمُ اللهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ. قَالَ: وَبِمَ يَقْتُلُونَنِي؟ وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا ⦗٣٥⦘ يَحِلُ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ: رَجُلٌ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ، أَوْ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانِهِ، أَوْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ ". فَوَاللهِ مَا زَنَيْتُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا فِي إِسْلَامٍ قَطُّ، وَلَا أَحْبَبْتُ بِدِينِي بَدَلًا مُنْذُ هَدَانِي اللهُ، وَمَا قَتَلْتُ نَفْسًا؛ عَلَامَ يُرِيدُ هَؤُلَاءِ قَتْلِي؟.سیدنا ابو امامہ سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، جب ان کو ان کے گھر میں قید کردیا گیا تھا تو ہم ایسی جگہ داخل ہوئے جہاں سے ہم لوگوں کی آوازیں سن سکتے تھے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ داخل ہوئے اور پھر نکلے، آپ کا رنگ تبدیل ہوا تھا۔ ہم نے پوچھا: اے امیر المؤمنین! کیا بات ہے؟ آپ نے فرمایا: لوگ مجھے قتل کرنے کا سوچ رہے ہیں، مجھے آج تک اس بات پر یقین نہیں تھا۔ ہم نے کہا: اے امیر المؤمنین! اللہ آپ کی مدد کرے گا۔ پھر کہنے لگے: یہ لوگ مجھے کیوں قتل کرنا چاہتے ہیں حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سن رکھا ہے کہ ”کسی مسلمان کو صرف تین وجوہات کی بنا پر قتل کیا جاسکتا ہے: 1 مرتد ہوجائے، 2 شادی کے بعد زنا کرے، 3 قصاصاً قتل کیا جائے۔“ اور اللہ کی قسم! میں نے تو قبلِ اسلام اور بعدِ اسلام کبھی زنا نہیں کیا اور اسلام کے بعد میں اسے چھوڑنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا اور نہ ہی میں نے کسی کو قتل کیا ہے تو یہ مجھے کیوں قتل کرنا چاہتے ہیں؟