السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: قتل الولدان باب: بچوں کو قتل کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، أنبأ أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، فِيمَا قَرَأْتُهُ عَلَيْهِ وَأَبُو عَلِيٍّ حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَرَوِيُّ قَالَا: ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ عَائِذُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَحَوْلَهُ عِصَابَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ: " بَايِعُونِي عَلَى: أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللهِ شَيْئًا، وَلَا تَسْرِقُوا، وَلَا تَزْنُوا، وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ، وَلَا تَأْتُوا بِبُهْتَانٍ تَفْتَرُونَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ، وَلَا تَعْصُوا فِي مَعْرُوفٍ، فَمَنْ وَفَّى مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَى اللهِ، وَمَنْ أَصَابَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَعُوقِبَ بِهِ فِي الدُّنْيَا فَهُوَ لَهُ كَفَّارَةٌ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا ثُمَّ سَتَرَهُ فَأَمْرُهُ إِلَى اللهِ، إِنْ شَاءَ عَفَا عَنْهُ وَإِنْ شَاءَ عَاقَبَهُ ". قَالَ: فَبَايَعْنَاهُ عَلَى ذَلِكَ. لَفْظُ حَدِيثِهِمَا سَوَاءٌ، إِلَّا أَنَّ فِي رِوَايَةِ الْقَاضِي عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، وَقَدْ شَهِدَ بَدْرًا، وَهُوَ أَحَدُ النُّقَبَاءِ لَيْلَةَ الْعَقَبَةِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الزُّهْرِيِّ.سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ کے ارد گرد بیٹھے ہوئے تھے: ”تم میری اس بات پر بیعت کرو کہ کبھی اللہ کے ساتھ شرک نہیں کرو گے، چوری اور زنا نہیں کرو گے، اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گے، کسی کے اوپر بہتان بازی نہیں کرو گے، نیکی کے کاموں میں نافرمانی نہیں کرو گے۔ جو یہ وعدے پورے کرے گا اس کو اللہ بہترین اجر سے نوازیں گے۔ اگر کسی سے یہ گناہ سر زد ہو جائیں تو دنیا میں سزا پا لینا اس کے لیے کفارہ بن جائے گا اور اگر کسی کے گناہ پر پردہ پڑا رہا تو اس کا معاملہ اللہ کے ساتھ ہے؛ چاہے تو اسے معاف کر دے، چاہے تو سزا دے دے۔“ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نے اس پر آپ ﷺ سے بیعت کر لی۔