السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النفقات— نفقات کا بیان
باب: اجتناب الوجه في الضرب للتأديب والحد باب: تادیب اور حد لگانے کے لیے مارتے وقت چہرے پر مارنے سے بچنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ: لَطَمْتُ مَوْلًى لَنَا فَهَرَبْتُ، ثُمَّ جِئْتُ قُبَيْلَ الظُّهْرِ فَصَلَّيْتُ خَلْفَ أَبِي، فَدَعَاهُ وَدَعَانِي، ثُمَّ قَالَ: اقْتَصَّ مِنْهُ. فَعَفَا، ثُمَّ قَالَ: كُنَّا بَنِي مُقَرِّنٍ عَلَى عَهْدِ ⦗٢١⦘ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ لَنَا إِلَّا خَادِمٌ وَاحِدٌ، فَلَطَمَهَا أَحَدُنَا، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَعْتِقُوهَا ". قَالُوا: لَيْسَ لَهُمْ خَادِمٌ غَيْرُهَا. قَالَ: " فَلْيَسْتَخْدِمُوهَا، وَإِذَا اسْتَغْنَوْا عَنْهَا فَخَلُّوا سَبِيلَهَا ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَفِي هَذَا كَالدَّلَالَةِ عَلَى أَنَّ الْأَمْرَ بِالْإِعْتَاقِ أَمْرُ نَدْبٍ وَاسْتِحْبَابٍ وَاللهُ أَعْلَمُ.معاویہ بن سوید رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے اپنے غلام کو تھپڑ مار دیا، پھر ظہر کی نماز کے لیے اپنے والد کے پیچھے چلا گیا۔ میرے والد رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی اور پھر مجھے بلایا اور کہنے لگے: ہم بنی مقرن عہدِ رسالت ﷺ میں سات بھائی تھے، ہمارا ایک ہی غلام تھا، ایک بھائی نے اسے تھپڑ مار دیا تو آپ ﷺ نے ساتوں کو حکم دیا: ”اسے آزاد کر دو۔“ ہم نے عرض کیا کہ اس کے علاوہ ہمارا کوئی غلام نہیں ہے تو کام کون کرے گا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ٹھیک ہے، اس سے کام کرواؤ، جب یہ کام سے فارغ ہو جائے تو پھر اسے آزاد چھوڑ دو۔“
صحیح مسلم میں ابوبکر بن ابی شیبہ رحمہ اللہ سے ہے کہ یہاں سے پتہ چلتا ہے کہ آزاد کرنے کا حکم وجوب کے لیے نہیں ہے، بلکہ مستحب ہے۔ واللہ اعلم۔