السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النفقات— نفقات کا بیان
باب: اجتناب الوجه في الضرب للتأديب والحد باب: تادیب اور حد لگانے کے لیے مارتے وقت چہرے پر مارنے سے بچنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 15805
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أنبأ شُعْبَةُ، ح وَأَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوِيهِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ هِلَالَ بْنَ يَسَافٍ، يَقُولُ: كُنَّا نَبِيعُ الْبَزَّ فِي دَارِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَخَرَجَتْ جَارِيَةٌ لَهُ، فَقَالَتْ لِرَجُلٍ شَيْئًا، فَلَطَمَهَا ذَلِكَ الرَّجُلُ، فَقَالَ لَهُ سُوَيْدُ بْنُ مُقَرِّنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَطَمْتَ وَجْهَهَا؟ لَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ وَمَا لَنَا إِلَّا خَادِمٌ، فَلَطَمَهَا بَعْضُنَا، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ يُعْتِقُهَا. لَفْظُ حَدِيثِ آدَمَ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ.حافظ ثناء اللہ
حصین بن عبدالرحمن سلمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے ہلال بن یساف رحمہ اللہ سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سیدنا سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ کے گھر میں کپڑے کا کام کیا کرتے تھے، ایک لونڈی آئی، اس نے کسی شخص کو کچھ کہا تو اس نے اس کے چہرے پر تھپڑ مار دیا، تو سیدنا سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ”کیا تو نے اس چہرے پر تھپڑ مارا ہے؟ ہم سات بھائی تھے، ہمارا غلام ایک تھا، ایک بھائی نے اسے تھپڑ مار دیا تھا، تو آپ ﷺ نے ساتوں کو حکم دیا کہ: ”اسے آزاد کر دو۔““