السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النفقات— نفقات کا بیان
باب: من أحق منهما بحسن الصحبة باب: والدین میں سے حسنِ سلوک کا زیادہ حق دار کون ہے اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 15756
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْكَجِّيُّ، ثنا الْأَنْصَارِيُّ، ثنا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَنْ أَبِرُّ؟ قَالَ: " أُمَّكَ " قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: " ثُمَّ ⦗٤⦘ أُمَّكَ " قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: " ثُمَّ أُمَّكَ " قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: " ثُمَّ أَبَاكَ، ثُمَّ الْأَقْرَبَ فَالْأَقْرَبَ ".حافظ ثناء اللہ
بہز بن حکیم اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں کس کے ساتھ زیادہ نیکی کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی والدہ سے۔“ میں نے کہا: پھر کون؟ فرمایا: ”تیری والدہ۔“ میں نے کہا: پھر کون؟ فرمایا: ”تیری والدہ۔“ میں نے کہا: پھر کون؟ فرمایا: ”تیرا والد، پھر ترتیب کے ساتھ قریب والا۔“