أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ قَالُوا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، أنا الْفَيْضُ بْنُ وَثِيقٍ، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ زِيَادٍ الطَّائِيِّ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: حَضَرْتُ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللهِ، هَذَا يُرِيدُ أَنْ يَأْخُذَ مَالِي كُلَّهُ وَيَجْتَاحَهُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِنَّمَا لَكَ مِنْ مَالِهِ مَا يَكْفِيكَ "، فَقَالَ: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَيْسَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ " فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " ارْضَ بِمَا رَضِيَ اللهُ بِهِ " وَرَوَاهُ غَيْرُهُ عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ زِيَادٍ، وَقَالَ فِيهِ: إِنَّمَا يَعْنِي بِذَلِكَ النَّفَقَةَ، وَالْمُنْذِرُ بْنُ زِيَادٍ ضَعِيفٌ.قیس بن حازم سے روایت ہے کہ میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا، آپ سے ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول کے خلیفہ! یہ ارادہ کرتا ہے کہ میرا سارا مال لے لے، اور اس کو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کے مال سے تیرے لیے اتنا ہے جو تجھے کافی ہو جائے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ کے خلیفہ! کیا رسول اللہ ﷺ نے نہیں فرمایا: ”تو اور تیرا مال تیرے والد کا ہے“؟ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو اس کے ساتھ راضی ہو جا جو اللہ نے تیرے لیے پسند کیا ہے۔
دوسرے راویوں نے اسے منذر بن زیاد سے روایت کیا ہے اور اس میں کہا: اس سے مراد صرف نفقہ (خرچہ) ہے۔ اور منذر بن زیاد ضعیف ہے۔