أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي، نا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَمَّالُ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ، حَدَّثَنِي الْمُنْكَدِرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ فَذَكَرَهُ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: مَنْ زَعَمَ أَنَّ مَالَ الْوَلَدِ لِأَبِيهِ احْتَجَّ بِظَاهِرِ هَذَا الْحَدِيثِ، وَمَنْ زَعَمَ أَنَّ لَهُ مِنْ مَالِهِ مَا يَكْفِيهِ إِذَا احْتَاجَ إِلَيْهِ فَإِذَا اسْتَغْنَى عَنْهُ لَمْ يَكُنْ لِلْأَبِ مِنْ مَالِهِ شَيْءٌ، احْتَجَّ بِالْأَخْبَارِ الَّتِي وَرَدَتْ فِي تَحْرِيمِ مَالِ الْغَيْرِ، وَأَنَّهُ لَوْ مَاتَ وَلَهُ ابْنٌ لَمْ يَكُنْ لِلْأَبِ مِنْ مَالِهِ إِلَّا السُّدُسُ، وَلَوْ كَانَ أَبُوهُ يَمْلِكُ مَالَ ابْنِهِ لَحَازَهُ كُلَّهُ.جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ!۔۔۔ اس کو ذکر کیا۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس کا خیال ہے کہ بیٹے کا مال اس کے والد کا ہے، اس نے حدیث کے ظاہر کو دلیل بنایا ہے اور جس کا خیال ہے کہ اس کا اتنا مال لینا جائز ہے جو اسے کافی ہو جائے، جب وہ اس کا محتاج ہو اور جب وہ غنی (مال دار) ہو جائے تو باپ کے لیے اس کے مال میں سے کوئی چیز لینا جائز نہیں۔ دلیل وہ احادیث و اخبار ہیں جو غیر کا مال لینے کی حرمت کے بارے میں وارد ہوئی ہیں۔ اگر وہ (یعنی بیٹا) فوت ہو جائے اور اس کا بیٹا بھی ہو تو والد کو اس کے مال سے چھٹا حصہ ملے گا اور اگر اس کا باپ بیٹے کے مال کا مالک ہو تو وہ تمام کے تمام مال کا وارث ہو گا۔