أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الطَّيِّبِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّعِيرِيُّ، نا مَحْمَشُ بْنُ عِصَامٍ، نا حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبُوكًا فَمَرَّ بِنَا شَابٌّ نَشِيطٌ يَسُوقُ غُنَيْمَةً لَهُ فَقُلْنَا: لَوْ كَانَ شَبَابُ هَذَا وَنَشَاطُهُ فِي سَبِيلِ اللهِ كَانَ خَيْرًا لَهُ مِنْهَا فَانْتَهَى قَوْلُنَا حَتَّى بَلَغَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " مَا قُلْتُمْ؟ " قُلْنَا: كَذَا وَكَذَا قَالَ: " أَمَا إِنَّهُ إِنْ كَانَ يَسْعَى عَلَى وَالِدَيْهِ أَوْ أَحَدِهِمَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَإِنْ كَانَ يَسْعَى عَلَى عِيَالٍ يَكْفِيهِمْ فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَإِنْ كَانَ يَسْعَى عَلَى نَفْسِهِ فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ".سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے نبی ﷺ کے ساتھ (مل کر) غزوہ تبوک لڑا، ہمارے پاس سے ایک پھرتیلا نوجوان گزرا، اس کے ساتھ اس کی بکریاں تھیں۔ ہم نے کہا: کاش اس کی جوانی اور اس کی بہادری اللہ کے راستے میں ہوتی، یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہوتا۔ ہماری بات ختم ہوئی، وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے کیا کہا؟“ ہم نے کہا: ہم نے اس طرح اس طرح کہا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر یہ اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک (کی خدمت) پر کوشش کرتا ہے تو یہ اللہ کے راستے میں ہے؛ اگر یہ اپنے اہل و عیال کی کفالت کے لیے کوشش کرتا ہے تو یہ اللہ کے راستے میں ہے؛ اگر یہ اپنے نفس پر (قابو پانے کی) کوشش کرتا ہے تو یہ اللہ کے راستے میں ہے۔“