السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحيض— حیض کا بیان
باب: المعتادة لا تميز بين الدمين باب: اس عادت والی عورت کا بیان جو دو قسم کے خون (حیض اور استحاضہ) کے درمیان تمیز نہ کر سکتی ہو
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، أنا ابْنُ مِلْحَانَ ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ثنا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ عُرْوَةِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ حَدَّثَتْهُ أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَكَتْ ⦗٤٩٢⦘ إِلَيْهِ الدَّمَ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " " إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ فَانْظُرِي إِذَا أَتَاكِ قُرْؤُكِ فَلَا تُصَلِّي فَإِذَا مَرَّ الْقُرْءُ فَتَطَهَّرِي، ثُمَّ صَلِّي مَا بَيْنَ الْقُرْءِ إِلَى الْقُرْءِ " " وَفِي هَذَا مَا دَلَّ عَلَى أَنَّهُ لَمْ يَحْفَظْهُ وَهُوَ سَمَاعُ عُرْوَةَ مِنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ أَبِي حُبَيْشٍ فَقَدْ بَيَّنَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ أَنَّ أَبَاهُ إِنَّمَا سَمِعَ قِصَّةَ فَاطِمَةَ بِنْتِ أَبِي حُبَيْشٍ مِنْ عَائِشَةَ وَرِوَايَتُهُ فِي الْإِسْنَادِ وَالْمَتْنِ جَمِيعًا أَصَحُّ مِنْ رِوَايَةِ الْمُنْذِرِ بْنِ الْمُغِيرَةِ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَاهُ قَتَادَةُ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ اسْتُحِيضَتْ فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَدَعَ الصَّلَاةَ أَيَّامِ أَقْرَائِهَا، ثُمَّ تَغْتَسِلَ وَتُصَلِّيَ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَقَتَادَةُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُرْوَةَ شَيْئًا قَالَ الشَّيْخُ: وَرِوَايَةُ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ فِي شَأْنِ أُمِّ حَبِيبَةَ أَصَحُّ مِنْ هَذِهِ الرِّوَايَةِ أَمَّا رِوَايَةُ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ فِي شَأْنِ فَاطِمَةَ فَإِنَّهَا ضَعِيفَةٌ وَسَيَرِدُ بَيَانُ ضَعْفِهَا إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى وَكَذَلِكَ حَدِيثُ عُثْمَانَ بْنِ سَعْدٍ الْكَاتِبِ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ فَاطِمَةَ ضَعِيفٌ.(الف) عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا، وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور خون کی شکایت کی۔ ان سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ایک رگ ہے تو انتظار کر، جب تیرا حیض آئے تو نماز نہ پڑھ، جب حیض گزر جائے تو پاک ہو جا، پھر طہر سے طہر تک نماز ادا کر۔“
(ب) اس حدیث میں اس بات پر دلالت ہے کہ اس نے یاد نہیں رکھا، حالانکہ عروہ کا سماع سیدہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا سے ہے۔ ہشام بن عروہ رحمہ اللہ نے وضاحت کی ہے کہ ان کے والد نے فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کا قصہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، ان (کے والد) کی روایت متن اور سند کے اعتبار سے منذر بن مغیرہ کی روایت سے زیادہ صحیح ہے۔
(ج) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا استحاضہ والی تھیں، انہیں نبی ﷺ نے حکم دیا کہ اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دے، پھر غسل کر اور نماز پڑھ۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قتادہ کا عروہ سے سماع ثابت نہیں۔
(د) شیخ کہتے ہیں: عراک بن مالک کی روایت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے واقعہ کے متعلق جو عروہ عن عائشہ رضی اللہ عنہا کی سند سے ہے، اس روایت سے زیادہ صحیح ہے۔ حبیب بن ابی ثابت کی روایت جو عروہ عن عائشہ رضی اللہ عنہا فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کے متعلق ہے وہ ضعیف ہے، اس کا ضعف جلد آگے آ رہا ہے۔ اس طرح عثمان بن سعد بن کاتب کی حدیث جو ابن ابی ملیکہ عن فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ہے، وہ بھی ضعیف ہے۔