السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النفقات— نفقات کا بیان
باب: من قال: لها النفقة باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک اس (مطلقہ) کے لیے نفقہ ثابت ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا أَحْمَدُ بْنُ ⦗٧٨١⦘ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ بْنِ مَسْعَدَةَ، نا أَحْمَدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ عَبْدِ الْمَجِيدِ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَسَدِيُّ وَهُوَ أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، نا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: كُنْتُ مَعَ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ الْأَعْظَمِ وَمَعَنَا الشَّعْبِيُّ، فَحَدَّثَ الشَّعْبِيُّ بِحَدِيثِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَمْ يَجْعَلْ لَهَا سُكْنَى وَلَا نَفَقَةً " فَأَخَذَ الْأَسْوَدُ كَفًّا مِنْ حَصًى فَحَصَبَهُ ثُمَّ قَالَ: وَيْحَكَ تُحَدِّثُ بِمِثْلِ هَذَا؟ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " لَا نَتْرُكُ كِتَابَ اللهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِقَوْلِ امْرَأَةٍ لَا نَدْرِي حَفِظَتْ أَوْ نَسِيَتْ لَهَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ، قَالَ اللهُ تَعَالَى: {لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ} [الطلاق: ١] رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ، عَنْ أَبِي أَحْمَدَ وَقَدْ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ آدَمَ عَنْ عَمَّارِ بْنِ زُرَيْقٍ فِي النُّقْلَةِ دُونَ النَّفَقَةِ وَلَمْ يَقُلْ فِيهِ وَسُنَّةُ نَبِيِّنَا وَقَدْ مَضَى ذِكْرُهُ فِي كِتَابِ الْعِدَدِ قَالَ لِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ قَالَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ: هَذَا أَصَحُّ مِنَ الَّذِي قَبْلَهُ لِأَنَّ هَذَا الْكَلَامَ لَا يَثْبُتُ وَيَحْيَى بْنُ آدَمَ أَحْفَظُ مِنْ أَبِي أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيِّ وَأَثْبَتُ مِنْهُ وَاللهُ أَعْلَمُ، وَقَدْ تَابَعَهُ قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، فَرَوَاهُ عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ مِثْلَ قَوْلِ يَحْيَى بْنِ آدَمَ سَوَاءً، وَرَوَاهُ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْخَلِيلِ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ فِيهِ: وَسُنَّةُ نَبِيِّنَا وَالْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ مَتْرُوكٌ وَالْأَشْبَهُ بِمَا رُوِّينَا عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَغَيْرِهَا فِي الْإِنْكَارِ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ أَنَّهَا إِنَّمَا أَنْكَرَتْ عَلَيْهَا النُّقْلَةَ مِنْ غَيْرِ سَبَبٍ دُونَ النَّفَقَةِ وَهُوَ الْأَشْبَهُ بِمَا احْتُجَّ بِهِ مِنَ الْآيَةِ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مَا نَعْلَمُ فِي كِتَابِ اللهِ ذِكْرَ نَفَقَةٍ إِنَّمَا فِي كِتَابِ اللهِ ذِكْرُ السُّكْنَى وَاللهُ أَعْلَمُ.ابو اسحاق رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں اسود بن یزید رحمہ اللہ کے ساتھ بڑی مسجد میں بیٹھا ہوا تھا اور ہمارے ساتھ شعبی رحمہ اللہ تھے۔ شعبی رحمہ اللہ نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے رہائش اور خرچہ مقرر نہیں کیا۔ انہوں نے ایک مٹھی کنکریوں کی پکڑی، ان کو کنکریاں ماریں، پھر کہا: تو ہلاک ہو جائے، تو اس کی مثل حدیث بیان کرتا ہے! عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم کتاب اللہ اور سنتِ رسول اللہ ﷺ کو کسی عورت کے قول کی وجہ سے نہیں چھوڑیں گے، ہم نہیں جانتے اسے یاد رہا یا وہ بھول گئی، اس کے لیے رہائش بھی ہے اور خرچہ بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ﴾ [سورة الطلاق: 1] ”تم ان کو ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں مگر یہ کہ وہ واضح فحاشی کریں۔“
اسے یحییٰ بن آدم نے عمار بن رزیق سے (گھر سے) منتقل ہونے کے بارے میں روایت کیا ہے، خرچے کا ذکر نہیں کیا، اور اس میں ”اور ہمارے نبی کی سنت“ کے الفاظ نہیں کہے۔ علی بن عمر حافظ (دارقطنی) نے کہا: یہ پہلی روایت سے زیادہ صحیح ہے کیونکہ یہ الفاظ ثابت نہیں ہیں، اور یحییٰ بن آدم ابو احمد زبیری سے زیادہ حافظے والے اور زیادہ پختہ ہیں۔ قبیصہ بن عقبہ نے ان کی متابعت کی ہے اور اسے عمار بن رزیق سے بالکل یحییٰ بن آدم کی طرح روایت کیا ہے۔ اور اسے حسن بن عمارہ نے سلمہ بن کہیل سے، انہوں نے عبداللہ بن خلیل سے، انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور اس میں ”اور ہمارے نبی کی سنت“ کہا ہے، اور حسن بن عمارہ متروک ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نہیں جانتا کہ اللہ کی کتاب میں خرچہ کا ذکر ہے لیکن اللہ کی کتاب میں رہائش کا ذکر ہے۔