السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النفقات— نفقات کا بیان
باب: المبتوتة لا نفقة لها إلا أن تكون حاملا باب: طلاقِ بتہ (طلاقِ مغلظہ) والی عورت کے لیے نفقہ نہ ہونے کا بیان سوائے اس کے کہ وہ حاملہ ہو۔
حدیث نمبر: 15722
وَفِي رِوَايَةِ فِرَاسٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ فِي قِصَّةِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ قَالَ: فَاخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَجُلٌ أَوْ قَالَ: فَقَالَ الرَّجُلُ قَدْ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا فَقَالَ: " إِنَّمَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ لِمَنْ كَانَتْ عَلَيْهِ رَجْعَةٌ " فَأَمَرَهَا فَاعْتَدَّتْ عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ..حافظ ثناء اللہ
شعبی سے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے قصے کے بارے میں منقول ہے کہ ان دونوں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے جھگڑا کیا۔ آدمی نے کہا: اس کو اس نے تین طلاقیں دی ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”رہائش اور خرچہ اس کے لیے ہے جس پر رجوع ہو۔“ آپ ﷺ نے اس کو حکم دیا کہ وہ ابن ام مکتوم کے پاس عدت گزارے۔