السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النفقات— نفقات کا بیان
باب: المبتوتة لا نفقة لها إلا أن تكون حاملا باب: طلاقِ بتہ (طلاقِ مغلظہ) والی عورت کے لیے نفقہ نہ ہونے کا بیان سوائے اس کے کہ وہ حاملہ ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ قَالَ: جِئْتُ أَنَا وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ وَقَدْ أَخْرَجَتِ ابْنَةَ أَخِيهَا طُهْرًا فَقُلْنَا لَهَا: مَا حَمَلَكِ عَلَى هَذَا؟ قَالَتْ: كَانَ زَوْجِي بَعَثَ إِلِيَّ مَعَ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ بِطَلَاقِي ثَلَاثًا فِي غَزْوَةِ نَجْرَانَ وَبَعَثَ إِلِيَّ بِخَمْسَةِ آصُعٍ مِنْ شَعِيرٍ وَخَمْسَةِ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ قَالَتْ: فَقُلْتُ أَمَا لِي نَفَقَةٌ إِلَّا هَذَا؟ قَالَتْ: فَجَمَعْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " كَمْ طَلَّقَكِ؟ " فَقُلْتُ: ثَلَاثًا فَقَالَ: " صَدَقَ لَا نَفَقَةَ لَكِ اعْتَدِّي فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ تَضَعِينَ عَنْكِ ثِيَابَكِ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ وَأَبِي عَاصِمٍ، عَنْ سُفْيَانَ وَرِوَايَةُ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي بَكْرٍ فِي النَّفَقَةِ وَالسُّكْنَى جَمِيعًا.ابوبکر بن ابوجہم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں اور ابوسلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی طرف گئے اور اس نے اپنے بھائی کی بیٹی کو طہر میں نکالا تھا۔ ہم نے اس سے کہا: تجھے اس پر کس چیز نے ابھارا؟ اس نے کہا: میرے خاوند نے نجران کے غزوہ میں میری طرف عیاش بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ میری تیسری طلاق بھیجی ہے اور میری طرف پانچ صاع جو اور پانچ صاع کھجور بھیجی ہے۔ میں نے کہا: میرے لیے صرف یہی خرچہ ہے؟ میں نے اپنے کپڑوں کو جمع کیا اور میں نبی ﷺ کے پاس آئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کتنی طلاقیں اس نے تجھے دی ہیں؟“ میں نے کہا: تین۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا ہے، تیرے لیے خرچہ نہیں ہے، تو ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر عدت گزار، تو اپنے کپڑے بھی اتارے گی۔“
اس کو مسلم رحمہ اللہ نے عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ اور ابوعاصم رحمہ اللہ کی حدیث سے سفیان رحمہ اللہ سے اپنی صحیح میں نکالا ہے اور اس کو شعبہ رحمہ اللہ نے ابوبکر سے خرچہ اور رہائش کے بارے میں اکٹھا روایت کیا ہے۔