السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النفقات— نفقات کا بیان
باب: فضل النفقة على الأهل باب: اہل و عیال پر خرچ کرنے کی فضیلت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَبُو الْقَاسِمِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ح قَالَ: وَأنبأ سُلَيْمَانُ، ثنا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، نا ابْنُ كَثِيرٍ، ح قَالَ: وَأَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ، نا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، نا أَبُو نُعَيْمٍ قَالُوا: نا سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي وَأَنَا بِمَكَّةَ وَهُوَ يَكْرَهُ أَنْ يَمُوتَ أَحَدُنَا بِالْأَرْضِ الَّتِي هَاجَرَ مِنْهَا فَقَالَ: " يَرْحَمُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ ابْنَ عَفْرَاءَ " قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ قَالَ: " لَا " قُلْتُ: فَبِالشَّطْرِ قَالَ: " لَا " قُلْتُ: فَبِالثُّلُثِ قَالَ: " الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ إِنَّكَ إِنْ تَدَعْ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ فِي أَيْدِيهِمْ وَإِنَّكَ مَهْمَا أَنْفَقْتَ عَلَى أَهْلِكَ مِنْ نَفَقَةٍ ⦗٧٦٩⦘ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ حَتَّى اللُّقْمَةَ تَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِكَ وَعَسَى الله عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَنْفَعَ بِكَ قَوْمًا وَيَضُرَّ بِكَ آخَرِينَ " وَلَمْ يَكُنْ لَهُ يَوْمَئِذٍ إِلَّا ابْنَةٌ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَمُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ.سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ (میری عیادت کے لیے) آئے اور میں مکہ میں تھا اور آپ ﷺ ناپسند کرتے تھے کہ ہمارا کوئی شخص اسی زمین میں فوت ہو جس سے ہم نے ہجرت کی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: «يَرْحَمُ اللَّهُ ابْنَ عَفْرَاءَ» ”اللہ تعالیٰ عفراء کے بیٹے پر رحم فرمائے۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ”میں اپنے سارے مال کی وصیت کرنا چاہتا ہوں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے عرض کیا: ”ایک تہائی؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک تہائی بھی بہت زیادہ ہے، تو اپنے ورثا کو غنی چھوڑے، یہ اس سے بہتر ہے کہ تو انہیں فقیر کر کے چھوڑے اور وہ اپنے ہاتھوں کو لوگوں کے سامنے پھیلاتے رہیں۔ جو تو اپنے اہل پر خرچ کرتا ہے وہ صدقہ ہے یہاں تک کہ وہ لقمہ جو تو اپنی بیوی کے منہ کی طرف اٹھاتا ہے وہ بھی صدقہ ہے اور قریب ہے کہ اللہ تیرے ذریعے ایک قوم کو نفع دے اور دوسری قوم کو تیرے ذریعے تکلیف دے۔“ اور اس وقت ان کی صرف ایک ہی بیٹی تھی۔
اس کو بخاری نے ابو نعیم اور محمد بن کثیر سے صحیح میں روایت کیا ہے اور مسلم نے سفیان ثوری رحمہ اللہ کی ایک دوسری سند سے نکالا ہے۔