حدیث نمبر: 15687
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، نا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لِي وَقَدْ أَعْلَقْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْعُذْرَةِ، فَقَالَ عَلِيٌّ: " مَا تَدْغَرْنَ أَوْلَادَكُنَّ بِهَذَا الْعِلَاقِ عَلَيْكُنَّ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةُ أَشْفِيَةٍ يُسْعَطُ بِهِ مِنَ الْعُذْرَةِ وَيُلَدُّ بِهِ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ وَغَيْرِهِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَغَيْرِهِ كُلُّهُمْ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، وَرَوَاهُ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ وَزَادَ فِيهِ " يَعْنِي الْكُسْتَ وَقَالَ بَعْضُهُمُ الْقِسْطَ.
حافظ ثناء اللہ

سیدہ ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نبی ﷺ کی خدمت میں اپنے بچے کے ساتھ حاضر ہوئی اور میں نے «الْعُذْرَةِ» ”عذرہ“ (بیماری) کی وجہ سے اس کے گلے کو دبایا ہوا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اس طرح دبانے سے عذرہ بیماری کا علاج کیوں کرتی ہو؟ تم عودِ ہندی استعمال کرو، اس میں سات بیماریوں سے شفا ہے، «الْعُذْرَةِ» ”عذرہ“ سے «سَعُوطٌ» ”سعوط“ کا طریقہ اختیار کرو اور «ذَاتِ الْجَنْبِ» ”ذات الجنب“ سے «لَدُودٌ» ”لدود“ کا طریقہ اختیار کرو۔“
اس کو امام بخاری نے علی بن عبداللہ اور ان کے علاوہ دیگر سے صحیح میں روایت کیا ہے اور امام مسلم نے یحییٰ بن یحییٰ اور ان کے علاوہ ان تمام نے سفیان بن عیینہ سے صحیح میں روایت کیا ہے اور اس کو یونس بن یزید نے ابن شہاب زہری سے روایت کیا ہے اور اس میں اضافہ کیا ہے یعنی «كُسْت» ”کست“ اور بعض نے کہا «قُسْط» ”قسط“ (کستوری کے الفاظ ہیں)۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الرضاع / حدیث: 15687
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»