السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحيض— حیض کا بیان
باب: في الاستطهار باب: استطہار (طہارت کے لیے احتیاطی مدت مقرر کرنے) کے بیان میں
حدیث نمبر: 1568
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ثنا ابْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ يَعْنِي مُحَمَّدًا ثنا الْفِرْيَابِيُّ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ حَرَامِ بْنِ عُثْمَانَ، ٢٧ عَنِ ابْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ ابْنَةَ مُرْشِدٍ الْأَنْصَارِيَّةَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: " تَنَكَّرَتْ حِيضَتِي " قَالَ: " كَيْفَ؟ " قَالَتْ: تَأْخُذُنِي فَإِذَا تَطَهَّرْتُ مِنْهَا عَاوَدَتْنِي قَالَ: " إِذَا رَأَيْتِ ذَلِكَ فَامْكُثِي ثَلَاثًا قَالَ الشَّيْخُ: أَبُو بَكْرِ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ: الْخَبَرُ وَاهٍ وَيُحْتَمَلُ أَنَّهُ قَالَ لِأَنَّ الطُّهْرَ كَثِيرًا يَقَعُ فِي وَسَطِ الْحَيْضِ فَيَكُونُ حَيْضًا بَعْدَ ذَلِكَ، قَالَ الشَّيْخُ: حَرَامُ بْنُ عُثْمَانَ ضَعِيفٌ لَا تَقُومُ بِمِثْلِهِ الْحُجَّةُ.حافظ ثناء اللہ
ابن جابر رضی اللہ عنہما اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ مرثد انصاریہ کی بیٹی نبی ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: میں نے اپنے حیض کو عجیب محسوس کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیسے؟“ اس نے کہا: مجھے آتا ہے جب میں پاک ہوجاتی ہوں تو دوبارہ پھر آجاتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تو یہ دیکھے تو تین (دن) رک جا۔“ (ب) ابن اسحاق کہتے ہیں کہ یہ روایت ضعیف ہے۔ (ج) اس بات کا بھی احتمال ہے کہ اکثر دوران حیض طہر آجاتا ہے پھر اس کے بعد حیض شروع ہوجاتا ہے۔ (د) شیخ کہتے ہیں: حرام بن عثمان ضعیف ہے، قابلِ حجت نہیں۔