السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرضاع— رضاعت کا بیان
باب: رضاع الكبير باب: بڑی عمر کے شخص کو دودھ پلانے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَأَنَا مَعَهُ عِنْدَ دَارِ الْقَضَاءِ يَسْأَلُهُ عَنْ رَضَاعَةِ الْكَبِيرِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: كَانَتْ لِي وَلِيدَةٌ وَكُنْتُ أَطَؤُهَا فَعَمَدَتِ امْرَأَتِي إِلَيْهَا فَأَرْضَعَتْهَا، فَدَخَلَتْ عليها فَقَالَتْ: دُونَكَ فَقَدْ وَاللهِ أَرْضَعْتُهَا، فَقَالَ عُمَرُ: " أَوْجِعْهَا وَائْتِ جَارِيَتَكَ إِنَّمَا الرَّضَاعَةُ رَضَاعَةُ الصَّغِيرِ ".عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ ایک آدمی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف آیا اور میں ان کے ساتھ عدالت کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بڑے کی رضاعت کے متعلق سوال کیا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ایک شخص عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرف آیا، اس نے کہا: میری لونڈی ہے اور میں اس سے جماع کرتا ہوں۔ میری بیوی نے اس کی طرف ارادہ کیا اور اس کو اس نے اپنا دودھ پلا دیا، میں اس پر داخل ہوا تو اس نے کہا: دور رہو اللہ کی قسم! میں نے اس کو دودھ پلا دیا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو اس کو تکلیف دے اور تو اپنی لونڈی کے پاس آ، یعنی تو اس سے جماع و صحبت کر۔ رضاعت تو چھوٹی عمر میں ثابت ہوتی ہے۔