السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرضاع— رضاعت کا بیان
باب: رضاع الكبير باب: بڑی عمر کے شخص کو دودھ پلانے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، نا أَبُو حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى أَبِي مُوسَى فَقَالَ إِنَّ امْرَأَتِي وَرِمَ ثَدْيُهَا فَمَصَصْتُهُ فَدَخَلَ حَلْقِي شَيْءٌ سَبَقَنِي فَشَدَّدَ عَلَيْهِ أَبُو مُوسَى فَأَتَى عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَ: سَأَلْتَ أَحَدًا غَيْرِي؟ قَالَ: نَعَمْ أَبَا مُوسَى فَشَدَّدَ عَلَيَّ، فَأَتَى أَبَا مُوسَى فَقَالَ: " أَرَضِيعٌ هَذَا؟ " فَقَالَ أَبُو مُوسَى: " لَا تَسْأَلُونِي مَا دَامَ هَذَا الْحَبْرُ فِيكُمْ أَوْ قَالَ: بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ " وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، وَزَادَ فِيهِ عَنْ عَبْدِ اللهِ: إِنَّمَا الرَّضَاعُ مَا أَنَبْتَ اللَّحْمَ وَالدَّمَ.ابو عطیہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی طرف ایک شخص آیا، اس نے کہا: میری بیوی کے پستانوں پر ورم آگیا، میں نے اس کو چوسا تو میرے حلق میں کوئی چیز داخل ہوگئی اور وہ مجھ سے سبقت لے گئی۔ اس پر سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے سختی کی، پھر وہ شخص سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، انہوں نے کہا: ”کیا تو نے میرے علاوہ کسی اور سے بھی سوال کیا ہے؟“ اس نے کہا: جی ہاں، سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے مجھ پر سختی کی ہے۔ وہ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: ”کیا یہ دودھ پینے والا ہے؟“ (یعنی رضاعی ہے) سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تم مجھ سے نہ سوال کرو جب تک یہ عالم تمہارے درمیان موجود ہے یا تم میں جب تک یہ ہے۔“ اس کو ثوری نے ابو حصین سے روایت کیا ہے اور اس میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ الفاظ زیادہ کیے ہیں: ”رضاعت وہ ہے جو گوشت اور خون کو بڑھائے۔“