حدیث نمبر: 15650
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَمْعَةَ أَنَّ أُمَّهُ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ أُمَّهَا أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ تَقُولُ: " أَبَى سَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُدْخِلْنَ عَلَيْهِنَّ أَحَدًا بِتِلْكَ الرَّضَاعَةِ وَقُلْنَ لِعَائِشَةَ: وَاللهِ مَا نَرَى هَذِهِ إِلَّا رُخْصَةً أَرْخَصَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَالِمٍ خَاصَّةً فَمَا هُوَ بِدَاخِلٍ عَلَيْنَا أَحَدٌ بِهَذِهِ الرَّضَاعَةِ وَلَا رَائِينَا " ⦗٧٥٧⦘ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، هَكَذَا قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ وَإِذَا كَانَ هَذَا لِسَالِمٍ خَاصَّةً فَالْخَاصُّ لَا يَكُونُ إِلَّا مُخْرِجًا مِنْ حُكْمِ الْعَامَّةِ وَلَا يَجُوزُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَضَاعُ الْكَبِيرِ لَا يُحَرِّمُ.
حافظ ثناء اللہ

ابن شہاب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مجھے ابوعبیدہ بن عبداللہ بن زمعہ نے خبر دی کہ ان کی والدہ زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا نے ان کو خبر دی کہ ان کی والدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا (نبی ﷺ کی زوجہ) فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ کی تمام بیویوں نے انکار کیا ہے کہ ان پر کوئی ایک رضاعت کے سبب داخل ہو اور انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ”اللہ کی قسم! ہم سمجھتی ہیں یہ رخصت اللہ کے رسول ﷺ نے خاص سالم کو دی تھی۔ وہ کون ہوتا ہے جو ہمارے اوپر اس رضاعت کے ساتھ داخل ہو اور نہ ہی کوئی ہمیں دیکھے۔“ اس کو مسلم نے اسی طرح اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب یہ سالم کے لیے خاص ہے تو خاص بھی عام کے حکم سے نکالا ہوتا ہے اور جائز نہیں مگر یہ کہ کبیر کی رضاعت تو حرام نہ کیا جائے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الرضاع / حدیث: 15650
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»