حدیث نمبر: 15607
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا ابْنُ مِلْحَانَ، نا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، نا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِي، ح، وَأنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَ: ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، أنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، نا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ أَفْلَحُ أَخُو أَبِي الْقُعَيْسِ بَعْدَمَا أُنْزِلَ الْحِجَابُ فَقُلْتُ لَهُ: لَا آذَنُ لَكَ حَتَّى أَسْتَأْذِنَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛ فَإِنَّ أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ لَيْسَ هُوَ أَرْضَعَنِي وَلَكِنْ أَرْضَعَتْنِي امْرَأَةُ أَبِي الْقُعَيْسِ قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَفْلَحَ أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ حَتَّى أَسْتَأْذِنَكَ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَمَا يَمْنَعُكِ أَنْ تَأْذَنِي لِعَمِّكِ؟ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ الرَّجُلَ لَيْسَ هُوَ أَرْضَعَنِي وَلَكِنْ أَرْضَعَتْنِي امْرَأَتُهُ قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ائْذَنِي لَهُ فَإِنَّهُ عَمُّكِ تَرِبَتْ يَمِينُكِ " قَالَ عُرْوَةُ: فَبِذَلِكَ كَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَقُولُ: حَرِّمُوا مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا تُحَرِّمُونَ مِنَ النَّسَبِ، لَفْظُ حَدِيثِ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ وَفِي رِوَايَةِ عُقَيْلٍ بَعْدَمَا نَزَلَ الْحِجَابُ فَقُلْتُ: وَاللهِ لَا آذَنُ حَتَّى أَسْتَأْذِنَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْبَاقِي نَحْوَهُ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ وَعَنْ أَبِي الْيَمَانِ.
حافظ ثناء اللہ

عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: افلح (ابو قیس کے بھائی) نے مجھ پر (داخل ہونے کی) اجازت طلب کی پردہ کا حکم نازل ہونے کے بعد۔ میں نے اسے کہا: میں تجھے اجازت نہیں دیتی حتیٰ کہ میں رسول اللہ ﷺ سے اجازت لے لوں، کیونکہ ابو قیس کے بھائی نے تو مجھے دودھ نہیں پلایا بلکہ ابو قیس کی بیوی نے مجھے دودھ پلایا ہے۔ فرماتی ہیں: مجھ پر رسول اللہ ﷺ داخل ہوئے تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! افلح (ابو قیس کے بھائی) نے مجھ پر داخل ہونے کی اجازت طلب کی، میں نے اس کو اجازت دینے سے انکار کر دیا حتیٰ کہ اس کے بارے میں آپ سے اجازت لے لوں۔ مجھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تجھے کس چیز نے اپنے چچا کو اجازت دینے سے روکا ہے؟“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! بیشک مجھے اس آدمی نے دودھ نہیں پلایا بلکہ مجھے اس کی بیوی نے دودھ پلایا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تو اس کو اجازت دے، بیشک وہ تیرا چچا ہے، تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں۔“
عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے ساتھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں: ”تم رضاعت سے (وہ سب) حرام قرار دو جو تم نسب سے حرام کرتے ہو۔“
یہ شعیب بن ابی حمزہ کی حدیث کے الفاظ ہیں اور عقیل کی روایت میں ہے (حجاب کے حکم نازل ہونے کے بعد): میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس کو اجازت نہیں دوں گی یہاں تک کہ میں رسول اللہ ﷺ سے سوال نہ کر لوں، اور باقی (روایت) اسی طرح ہے۔ اس کو بخاری نے اپنی صحیح میں یحییٰ بن بکیر اور ابو الیمان سے روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الرضاع / حدیث: 15607
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»