السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العدد— عدت کا بیان
باب: عدة المعتقة تحت عبد إذا اختارت فراقه باب: کسی غلام کے نکاح میں موجود اس لونڈی کی عدت کا بیان جسے آزاد کر دیا گیا ہو اور اس نے شوہر سے جدائی کا راستہ اختیار کر لیا ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ قَالَا: نا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ، نا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، نا هَمَّامٌ قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا اشْتَرَتْ بَرِيرَةَ فَأَعْتَقَتهَا وَاشْتَرَطَتِ الْوَلَاءَ فَقَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ وَخَيَّرَهَا فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا وَجَعَلَ عَلَيْهَا عِدَّةَ الْحُرَّةِ " قَالَ أَبُو بَكْرٍ: جَوَّدَ حَبَّانُ فِي قَوْلِهِ عِدَّةُ الْحُرَّةِ لِأَنَّ عَفَّانَ بْنَ مُسْلِمٍ وَعَمْرَو بْنَ عَاصِمٍ رَوَيَاهُ فَقَالَا: وَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ وَلَمْ يَذْكُرَا عِدَّةَ الْحُرَّةِ قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ رَحِمَهُ اللهُ وَكَذَلِكَ قَالَهُ هُدْبَةُ عَنْ هَمَّامٍ فَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ عِدَّةَ حُرَّةٍ.عکرمہ رحمہ اللہ، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو خریدا اور اسے آزاد کر دیا اور ولاء کی شرط لگائی۔ رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ کیا کہ ”ولاء اسی کی ہے جو آزاد کرے“ اور اس کو اختیار دیا۔ اس نے اپنے آپ کو اختیار کیا۔ آپ ﷺ نے ان دونوں کے درمیان جدائی کرا دی اور اس پر آزاد عورت کی عدت کو مقرر کیا۔
ابو بکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حبان نے اپنے قول میں آزاد عورت کی عدت کو عمدہ بیان کیا ہے کیونکہ عفان بن مسلم اور عمرو بن عاصم دونوں نے اس کو روایت کیا ہے۔ وہ دونوں فرماتے ہیں اور اس کو حکم دیا کہ وہ عدت گزارے اور آزاد کی عدت کا تذکرہ نہیں کیا۔
امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسی طرح ہدبہ نے ہمام سے روایت کیا ہے؛ اس کو حکم دیا کہ وہ آزاد عورت کی عدت گزارے۔