السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العدد— عدت کا بیان
باب: استبراء أم الولد باب: ام ولد (وہ لونڈی جس سے مالک کا بچہ پیدا ہوا ہو) کے استبراءِ رحم کا بیان۔
حدیث نمبر: 15586
وَأَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زُهَيْرٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ، نا وَكِيعٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " عِدَّةُ أُمِّ الْوَلَدِ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا " قَالَ وَكِيعٌ: مَعْنَاهُ إِذَا مَاتَ عَنْهَا زَوْجُهَا بَعْدَ سَيِّدِهَا قَالَ الشَّيْخُ: رِوَايَاتُ خِلَاسٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ غَيْرُ قَوِيَّةٍ يَقُولُونَ وَهِيَ مَحِيفَةٌ.حافظ ثناء اللہ
خلاس بن عمرو، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ام ولد کی عدت چار ماہ اور دس دن ہے۔
امام وکیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کا معنی یہ ہے کہ جب اس کا خاوند بھی اس کے مالک کی وفات کے بعد مر جائے۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: خلاس کی روایات سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے محدثین کے نزدیک غیر قوی ہیں، وہ فرماتے ہیں: یہ نہایت کمزور ہے۔