السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العدد— عدت کا بیان
باب: من قال بتخيير المفقود إذا قدم بينها وبين الصداق ومن أنكره باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جو لاپتہ شخص کی واپسی پر اسے بیوی اور مہر (واپس لینے) کے درمیان اختیار دینے کے قائل ہیں، اور جنہوں نے اس امر کا انکار کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ قَالَ: أَدْرَكْتُ النَّاسَ وَهُمْ يُنْكِرُونَ الَّذِي قَالَ بَعْضُ النَّاسِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: يُخَيَّرُ زَوْجُهَا إِذَا جَاءَ وَقَدْ نُكِحَتْ فِي صَدَاقِهَا وَفِي الْمَرْأَةِ قَالَ مَالِكٌ: إِذَا تَزَوَّجَتْ بَعْدَ انْقِضَاءِ الْعِدَّةِ فَإِنْ دَخَلَ بِهَا أَوْ لَمْ يَدْخُلْ بِهَا فَلَا سَبِيلَ لِزَوْجِهَا الْأَوَّلِ إِلَيْهَا. وَذَلِكَ الْأَمْرُ عِنْدَنَا، قَالَ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللهُ: إِنْ جَاءَ زَوْجُهَا قَبْلَ أَنْ تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا.مالک رحمہ اللہ نے ہمیں حدیث بیان کی، فرمایا: میں لوگوں کو پاتا ہوں کہ وہ اس کا انکار کرتے ہیں جو بعض لوگوں نے عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہا ہے کہ انہوں نے کہا: ”اس کے خاوند کو اختیار دیا جائے گا جب وہ آ جائے۔“ اگر وہ نکاح کر چکی تو اسے حق مہر میں اور عورت میں اختیار دیا جائے۔ مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب وہ اپنی عدت کے ختم ہونے کے بعد شادی کرے، اگرچہ اس نے اس کے ساتھ دخول کیا ہے یا نہیں کیا، اس کے پہلے خاوند کے لیے اس کی طرف کوئی راستہ نہیں ہے اور یہی مسئلہ ہمارے لیے بھی ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر اس کا خاوند اس کی عدت کے ختم ہونے سے پہلے آ جائے تو وہی اس کا حق دار ہے۔