حدیث نمبر: 15567
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلَهِ زَادَ ثُمَّ تَحِلُّ وَرَوَاهُ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَزَادَ فِيهِ قَالَ: وَقَضَى بِذَلِكَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ بَعْدَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَرَوَاهُ أَبُو عُبَيْدٍ فِي كِتَابِهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّ عُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَا: امْرَأَةُ الْمَفْقُودِ تَرَبَّصُ أَرْبَعَ سِنِينَ ثُمَّ تَعْتَدُّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ثُمَّ تُنْكَحُ.
حافظ ثناء اللہ

ہم کو مالک نے حدیث بیان کی، انہوں نے اسی طرح ذکر کیا ہے اور انہوں نے یہ زیادہ کیا ہے کہ پھر وہ حلال ہو جائے۔
اور اس کو یونس بن یزید نے زہری سے روایت کیا ہے اور انہوں نے اس میں یہ زیادہ کیا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کے بعد عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی یہی فیصلہ کیا۔
اور اس کو ابو عبیدہ نے اپنی کتاب میں محمد بن کثیر سے، اوزاعی سے، زہری سے اور سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے کہ عمر اور عثمان رضی اللہ عنہما نے فرمایا: گم شدہ خاوند کی بیوی چار سال انتظار کرے، پھر وہ چار ماہ اور دس دن عدت گزارے، پھر نکاح کر لے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15567
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره»