حدیث نمبر: 15558
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحٍ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي أَشْيَاخٌ مِنَّا قَالُوا: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنِّي غِبْتُ عَنِ امْرَأَتِي سَنَتَيْنِ فَجِئْتُ وَهِيَ حُبْلَى فَشَاوَرَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نَاسًا فِي رَجْمِهَا فَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنْ كَانَ لَكَ عَلَيْهَا سَبِيلٌ فَلَيْسَ لَكَ عَلَى مَا فِي بَطْنِهَا سَبِيلٌ فَاتْرُكْهَا حَتَّى تَضَعَ "، فَتَرَكَهَا فَوَلَدَتْ غُلَامًا قَدْ خَرَجَتْ ثَنَايَاهُ فَعَرَفَ الرَّجُلُ الشَّبَهَ فِيهِ فَقَالَ: ابْنِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " عَجَزَتِ النِّسَاءُ أَنْ يَلِدْنَ مِثْلَ مُعَاذٍ لَوْلَا مُعَاذٌ لَهَلَكَ عُمَرُ " وَهَذَا إِنْ ثَبَتَ فَفِيهِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ الْحَمْلَ يَبْقَى أَكْثَرَ مِنْ سَنَتَيْنِ، وَقَوْلُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي امْرَأَةِ الْمَفْقُودِ تَرَبَّصُ أَرْبَعَ سِنِينَ يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا قَالَهُ لِبَقَاءِ الْحَمْلِ أَرْبَعَ سِنِينَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

ابو سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے ہمارے بزرگوں میں سے کسی نے حدیث بیان کی کہ ایک شخص سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اس نے کہا: اے امیر المومنین! میں اپنی عورت سے دو سال تک غائب رہا ہوں، میں آیا ہوں تو وہ حاملہ ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے اس کے رجم کرنے کے بارے میں مشورہ کیا۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے امیر المومنین! اگر آپ کے پاس اس کے خلاف کوئی دلیل ہے تو جو اس کے پیٹ میں ہے اس کے خلاف آپ کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے، آپ اس کو چھوڑ دیجیے حتیٰ کہ وہ وضع حمل کر لے۔ آپ نے اسے چھوڑ دیا، اس نے بچے کو جنم دیا جس کے سامنے والے دو دانت نکل چکے تھے، اس آدمی نے اس بچے میں اپنی مشابہت پہچان لی اور کہا: اللہ کی قسم! یہ میرا بیٹا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عورتیں عاجز آ گئی ہیں کہ وہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ جیسوں کو جنم دیں، اگر معاذ نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتا۔ اگر یہ ثابت ہو جائے تو اس میں دلیل ہے کہ حمل دو سالوں سے زیادہ دیر تک پیٹ میں باقی رہ سکتا ہے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا قول اس عورت کے بارے میں جس کا خاوند گم ہو جائے یہ ہے کہ وہ چار سال تک انتظار کرے، یہ اس کے مشابہ ہے کہ شاید وہ حمل کے چار سال تک باقی رہنے کی وجہ سے کہتے ہوں اور اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15558
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»