حدیث نمبر: 15557
أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا أَبُو شُعَيْبٍ صَالِحُ بْنُ عِمْرَانَ الدَّعَّاءُ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ غَسَّانَ، ثنا، هَاشِمُ بْنُ يَحْيَى الْفَرَّاءُ الْمُجَاشِعِيُّ قَالَ: بَيْنَمَا مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ يَوْمًا جَالِسٌ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا أَبَا يَحْيَى ادْعُ لِامْرَأَةٍ حُبْلَى مُنْذُ أَرْبَعِ سِنِينَ قَدْ أَصْبَحَتْ فِي كَرْبٍ شَدِيدٍ فَغَضِبَ مَالِكٌ وَأَطْبَقَ الْمُصْحَفَ ثُمَّ قَالَ: " مَا يَرَى هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ إِلَّا أَنَّا أَنْبِيَاءُ " ثُمَّ دَعَا، ثُمَّ قَالَ: " اللهُمَّ هَذِهِ الْمَرْأَةُ إِنْ كَانَ فِي بَطْنِهَا رِيحٌ فَأَخْرِجْهَا عَنْهَا السَّاعَةَ وَإِنْ كَانَ فِي بَطْنِهَا جَارِيَةٌ فَأَبْدِلْهَا بِهَا غُلَامًا فَإِنَّكَ تَمْحُو مَا تَشَاءُ وَتُثْبِتُ وَعِنْدَكَ أُمُّ الْكِتَابِ " ثُمَّ رَفَعَ مَالِكٌ يَدَهُ وَرَفَعَ النَّاسُ أَيْدِيَهُمْ وَجَاءَ الرَّسُولُ إِلَى الرَّجُلِ فَقَالَ: أَدْرِكِ امْرَأَتَكَ فَذَهَبَ الرَّجُلُ فَمَا حَطَّ مَالِكٌ يَدَهُ حَتَّى طَلَعَ الرَّجُلُ مِنْ بَابِ الْمَسْجِدِ عَلَى رَقَبَتِهِ غُلَامٌ جَعْدٌ قَطَطٌ ابْنُ أَرْبَعِ سِنِينَ قَدِ اسْتَوَتْ أَسْنَانُهُ مَا قُطِعَتْ أَسْرَارُهُ.
حافظ ثناء اللہ

ہاشم بن یحییٰ فرّاء مجاشعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ مالک بن دینار رحمہ اللہ بیٹھے ہوئے تھے، اچانک ان کے پاس ایک آدمی آیا، اس نے کہا: اے ابو یحییٰ! میری بیوی کے لیے دعا کرو وہ چار سال سے حاملہ ہے اور آج وہ شدید تکلیف میں ہے۔ مالک بن دینار رحمہ اللہ غضب ناک ہوئے اور مصحف (یعنی قرآن) کو بند کر دیا، پھر فرمایا: یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم انبیاء ہیں۔ پھر دعا کی: «اَللّٰهُمَّ إِنْ كَانَ فِيْ بَطْنِ هٰذِهِ الْمَرْأَةِ رِيْحٌ فَأَخْرِجْهَا السَّاعَةَ، وَإِنْ كَانَ فِيْ بَطْنِهَا جَارِيَةٌ فَأَبْدِلْهَا غُلَامًا، فَإِنَّكَ ﴿يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ﴾ [سورة الرعد: 39]» ”اے اللہ! اگر اس عورت کے پیٹ میں ہوا ہے تو اس کو اسی گھڑی نکال دے اور اگر اس کے پیٹ میں لڑکی ہے تو اس کو لڑکے کے ساتھ بدل دے، بیشک تو ہی ﴿يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ﴾ [سورة الرعد: 39] جس کو چاہتا ہے مٹاتا ہے اور تو ہی جس کو چاہتا ہے باقی ثابت رکھتا ہے۔“ پھر مالک رحمہ اللہ نے اپنے ہاتھ کو اٹھایا اور لوگوں نے بھی اپنے ہاتھوں کو اٹھایا اور قاصد اس شخص کی طرف آیا اور کہا: تو اپنی بیوی کو پا، یعنی اپنی بیوی کے پاس جا۔ آدمی گیا۔ مالک رحمہ اللہ نے ابھی اپنے ہاتھ کو نیچے نہیں کیا تھا کہ آدمی مسجد کے دروازے سے نمودار ہوا اور اس کے کندھے پر چھوٹے گھنگھریالے بالوں والا چار سال کا لڑکا تھا، اس کے دانت بھی برابر ہو چکے تھے اور اس کی ناف ابھی کاٹی نہیں گئی تھی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15557
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»