السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العدد— عدت کا بیان
باب: ما جاء في أقل الحمل باب: مدتِ حمل کی کم از کم مقدار کے بارے میں وارد شدہ روایات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، نا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي الْقَصَّافِ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " أُتِيَ بِامْرَأَةٍ قَدْ وَلَدَتْ لِسِتَّةِ أَشْهُرٍ فَهَمَّ بِرَجْمِهَا " فَبَلَغَ ذَلِكَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: " لَيْسَ عَلَيْهَا رَجْمٌ " فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَسَأَلَهُ فَقَالَ: " {وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ} [البقرة: ٢٣٣] وَقَالَ: {وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ} [الأحقاف: ١٥] ثَلَاثُونَ شَهْرًا فَسِتَّةُ أَشْهُرٍ حَمْلُهُ حَوْلَيْنِ تَمَامٌ لَا حَدَّ عَلَيْهَا أَوْ قَالَ: لَا رَجْمَ عَلَيْهَا " قَالَ: " فَخَلَّى عَنْهَا ثُمَّ وَلَدَتْ ".ابوحرب بن ابوالاسود دیلی سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت کو لایا گیا جس نے چھ ماہ کے بعد بچے کو جنم دیا تھا، عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے رجم کرنے کا ارادہ فرمایا، یہ بات علی رضی اللہ عنہ کو پہنچی، انھوں نے فرمایا: اس پر رجم نہیں ہے، یہ بات عمر رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو آپ نے ان کی طرف قاصد کو بھیجا کہ وہ اس سے سوال کرے اور فرمایا: ﴿وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ﴾ [سورة البقرة: 233] ”اور مائیں اپنی اولاد کو دودھ پلائیں مکمل دو سال جو ارادہ کریں رضاعت کو مکمل کرنے کا۔“ اور فرمایا: ﴿وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا﴾ [سورة الأحقاف: 15] ”اور حمل اور دودھ چھڑوانے کی مدت تیس ماہ ہے۔“ چھ ماہ اس کے حمل کی مدت اور دو سال اس کے دودھ چھڑوانے کی مدت ہے، اس پر حد نہیں ہے یا فرمایا: اس پر رجم نہیں ہے، چنانچہ اس کو عمر رضی اللہ عنہ نے چھوڑ دیا، پھر اس نے بچے کو جنم دیا۔