السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العدد— عدت کا بیان
باب: الاختلاف في مهرها وتحريم نكاحها على الثاني باب: عورت کے مہر میں اختلاف اور دوسرے شوہر پر اس کے نکاح کے حرام ہونے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، نا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا أَشْعَثُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: أُتِيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِامْرَأَةٍ تَزَوَّجَتْ فِي عِدَّتِهَا فَأَخَذَ مَهْرَهَا فَجَعَلَهُ فِي بَيْتِ الْمَالِ وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا وَقَالَ: " لَا يَجْتَمِعَانِ وَعَاقَبَهُمَا " قَالَ: فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " لَيْسَ هَكَذَا وَلَكِنْ هَذِهِ الْجَهَالَةَ مِنَ النَّاسِ وَلَكِنْ يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا ثُمَّ تَسْتَكْمِلُ بَقِيَّةَ الْعِدَّةِ مِنَ الْأَوَّلِ ثُمَّ تَسْتَقْبِلُ عِدَّةً أُخْرَى وَجَعَلَ لَهَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْمَهْرَ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا قَالَ: فَحَمِدَ اللهَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ رُدُّوا الْجَهَالِاتِ إِلَى السُّنَّةِ ".شعبی سے روایت ہے کہ ایک عورت کو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا، جس نے دورانِ عدت نکاح کر لیا تھا۔ آپ نے اس کے حق مہر کو لیا اور بیت المال میں ڈال دیا اور ان دونوں کے درمیان جدائی کروا دی اور فرمایا: یہ دونوں اکٹھے نہیں ہو سکتے اور یہ ان کی سزا ہے۔ شعبی کہتے ہیں: علی رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ اس طرح نہیں، یہ لوگوں کی جہالت ہے اور ان دونوں کے درمیان جدائی کروا دی جائے گی۔ پھر وہ اپنے پہلے خاوند کی بقیہ عدت مکمل کرے گی، پھر وہ دوسری عدت کی طرف متوجہ ہو گی اور علی رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے حق مہر مقرر کیا اس کی شرمگاہ کو حلال کیے جانے کی وجہ سے۔ شعبی فرماتے ہیں: عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ کی تعریف کی، اس کی حد بیان کی، پھر فرمایا: اے لوگو! جہالتوں کو سنت کی طرف لوٹاؤ۔