حدیث نمبر: 15543
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ لَفْظًا قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نَضْلَةَ، أَوْ قَالَ: نُضَيْلَةَ شَكَّ دَاوُدُ قَالَ: رُفِعَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ امْرَأَةٌ تَزَوَّجَتْ فِي عِدَّتِهَا فَقَالَ لَهَا: " هَلْ عَلِمْتِ أَنَّكِ تَزَوَّجْتِ فِي الْعِدَّةِ؟ " قَالَتْ: لَا فَقَالَ لِزَوْجِهَا: " هَلْ عَلِمْتَ؟ " قَالَ: لَا قَالَ: " لَوْ عَلِمْتُمَا لَرَجَمْتُكُمَا فَجَلَدَهُمَا أَسْيَاطًا وَأَخَذَ الْمَهْرَ فَجَعَلَهُ صَدَقَةً فِي سَبِيلِ اللهِ قَالَ: لَا أُجِيزُ مَهْرًا لَا أُجِيزُ نِكَاحَهُ، وَقَالَ لَا تَحِلُّ لَكَ أَبَدًا ".
حافظ ثناء اللہ

عبید بن نضلہ (یا نضیلہ، داؤد نے اس بارے میں شک کیا ہے) سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت کو لایا گیا، آپ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: کیا تجھے علم تھا کہ تو عدت کے دوران شادی کر رہی ہے؟ اس نے کہا: نہیں (مجھے معلوم نہ تھا)۔ اس کے خاوند سے فرمایا: کیا تو جانتا تھا؟ اس نے کہا: نہیں، مجھے بھی علم نہ تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تمہیں معلوم ہوتا تو میں تم دونوں کو رجم کر دیتا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ان کو کوڑے کے ساتھ مارا اور اس کا حق مہر لے لیا اور اسے اللہ کے راستے میں صدقہ کر دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کا مہر بھی جائز نہیں ہے اور اس کا نکاح بھی جائز نہیں ہے اور فرمایا: وہ عورت تیرے لیے ہمیشہ کے لیے حلال نہیں ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15543
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»