❮
❯
حدیث نمبر: 15527
حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ الشِّيرَازِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا إِبْرَاهِيمُ، أنا يَزِيدُ، أنا هِشَامٌ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا وَلَا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا ثَوْبَ عَصَبٍ وَلَا تَكْتَحِلُ وَلَا تَمَسُّ طِيبًا إِلَّا عِنْدَ أَدْنَى طُهْرِهَا إِذَا اغْتَسَلَتْ مِنْ حَيْضِهَا مِنْ قُسْطٍ أَوْ أَظْفَارٍ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ، وَرَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ بِمَعْنَاهُ وَزَادَ فِيهِ وَلَا تَخْتَضِبُ.
حافظ ثناء اللہ

سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے حلال نہیں ہے جو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتی ہو کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے مگر اپنے خاوند پر چار ماہ اور دس دن سوگ کرے، وہ نہ رنگ دار کپڑے پہنے سوائے عصب کے کپڑے کے اور نہ ہی وہ سرمہ لگائے اور نہ ہی خوشبو لگائے مگر اپنے طہر کے قریب جب وہ غسل کرے اپنے حیض سے تو تھوڑی سی قسط یا اظفار (خوشبودار بخور) سے۔“ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15527
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»