السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العدد— عدت کا بیان
باب: كيفية سكنى المطلقة والمتوفى عنها باب: طلاق یافتہ اور بیوہ عورت کی رہائش کی کیفیت و نوعیت کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، نا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " الْمُطَلَّقَةُ وَالْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا تَخْرُجَانِ بِالنَّهَارِ وَلَا تَبِيتَانِ لَيْلَةً تَامَّةً غَيْرَ بُيُوتِهِمَا ".سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ طلاق شدہ عورت اور وہ عورت جس کا خاوند فوت ہو چکا ہو وہ دن میں نکلیں اور مکمل رات اپنے گھر کے علاوہ کسی دوسرے کے گھر میں نہ گزاریں۔
سفیان سے روایت ہے کہ مجھے موسیٰ بن عقبہ نے حدیث بیان کی، وہ نافع سے روایت کرتے ہیں، وہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ طلاقِ بتہ والی عورت دن کو زیارت کرے اور اپنے گھر کے علاوہ رات نہ گزارے۔
علقمہ سے روایت ہے کہ ہمدان قبیلے کی عورتوں کے لیے ان کے خاوندوں کی (وفات) کا اعلان کیا گیا، انہوں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ ہم وحشت محسوس کرتی ہیں، انہوں نے ان کو حکم دیا کہ وہ دن کو اکٹھی ہو جایا کریں اور جب رات ہو تو ہر ایک عورت اپنے گھر کی طرف پلٹ جائے۔
اسلم قبیلے کے ایک شخص سے روایت ہے کہ ایک عورت نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ اس کا خاوند فوت ہو گیا ہے، کیا وہ اپنے والد کی بیمار پرسی کر سکتی ہے؟ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تو رات کے دو حصوں میں سے ایک حصہ اپنے گھر میں گزار۔