السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العدد— عدت کا بیان
باب: سكنى المتوفى عنها زوجها باب: بیوہ عورت کی رہائش کے احکامات کا بیان۔
أَخْبَرَنَاه أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ عَمَّتَهُ تُحَدِّثُ عَنْ فُرَيْعَةَ أُخْتِ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّهَا كَانَتْ مَعَ زَوْجِهَا فِي قَرْيَةٍ مِنْ قُرَى الْمَدِينَةِ فَتَبِعَ أَعْلَاجًا فَقَتَلُوهُ فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَكَتِ الْوَحْشَةَ فِي مَنْزِلِهَا وَذَكَرَتْ أَنَّهَا فِي مَنْزِلٍ لَيْسَ لَهَا وَاسْتَأْذَنَتْ أَنْ تَأْتِيَ مَنْزِلَ إِخْوَتِهَا بِالْمَدِينَةِ فَأَذِنَ لَهَا ثُمَّ دَعَا أَوْ دُعِيَتْ لَهُ فَقَالَ: " اسْكُنِي فِي الْبَيْتِ الَّذِي أَتَاكِ فِيهِ نَعْيُ زَوْجِكِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ " قَالَ: فَلَقِيتُ أَنَا سَعْدَ بْنَ إِسْحَاقَ فَحَدَّثَنِي بِهِ.ابن کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی پھوپھی سے سنا، وہ ابو سعید رضی اللہ عنہ کی بہن فریعہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتی ہیں کہ وہ اپنے خاوند کے ساتھ مدینہ کی بستیوں میں سے ایک بستی میں تھیں، ان کا خاوند غلاموں کے پیچھے لگا، انہوں نے اس کو قتل کر دیا، وہ نبی ﷺ کے پاس آئی، اس نے اپنے مکان کی وحشت کا ذکر کیا اور ذکر کیا کہ اس کا گھر نہیں ہے اور مدینہ میں اپنی بہن کے گھر جانے کی اجازت طلب کی، آپ ﷺ نے اس کو اجازت دے دی، پھر اس کو بلایا اور فرمایا: ”تو اس گھر میں ٹھہری رہ جو اس نے تجھے دیا ہے یا جو تیرے خاوند کے نام ہے یہاں تک کہ ﴿يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ﴾ [سورة البقرة: 235] (کتاب اپنے مقررہ وقت کو پہنچ جائے)، یعنی عدت ختم ہو جائے۔“