السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العدد— عدت کا بیان
باب: مقام المطلقة في بيتها باب: طلاق یافتہ عورت کے اپنے ہی گھر میں قیام پذیر رہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 15483
وَبِإِسْنَادِهِ ثنا سُفْيَانُ، ثنا أَشْعَثُ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا تَرَى فِي امْرَأَةٍ طُلِّقَتْ ثُمَّ أَصْبَحَتْ غَادِيَةً إِلَى أَهْلِهَا؟ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: " وَاللهِ مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي دِينَهَا بِتَمْرَةٍ ".حافظ ثناء اللہ
حارث بن سوید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اس نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! آپ کا اس عورت کے بارے میں کیا خیال ہے جسے طلاق دی گئی، پھر اس نے اپنے اہل کی طرف صبح کی؟ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں زیادہ پسند کرتا ہوں کہ میرے لیے اس کا دین ایک کھجور کے عوض ہو۔