السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العدد— عدت کا بیان
باب: عدة الحامل من الوفاة باب: حاملہ بیوہ کی عدت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتَوَيْهِ، نا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، نا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى وَأَصْحَابُهُ يُعَظِّمُونَهُ كَأَنَّهُ أَمِيرٌ فَذَكَرُوا آخِرَ الْأَجَلَيْنِ فَذَكَرْتُ حَدِيثَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ فِي سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ قَالَ: فَغَمَزَ إِلِيَّ بَعْضُ أَصْحَابِهِ فَفَطِنْتُ فَقُلْتُ: إِنِّي لَحَرِيصٌ عَلَى الْكَذِبِ إِنْ كَذَبْتُ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ وَهُوَ بِنَاحِيَةِ الْكُوفَةِ قَالَ: فَاسْتَحَى وَقَالَ: وَلَكِنَّ عَمَّهُ لَمْ يَكُنْ يَقُولُ ذَلِكَ قَالَ: وَلَمْ أَكُنْ سَمِعْتُ فِيهِ عَنْ عَبْدِ اللهِ شَيْئًا قَالَ: فَقُمْتُ فَلَقِيتُ أَبَا عَطِيَّةَ مَالِكَ بْنَ الْحَارِثِ فَسَأَلْتُهُ فَذَهَبَ يُحَدِّثُنِي حَدِيثَ سُبَيْعَةَ قُلْتُ: إِنِّي لَسْتُ عَنْ هَذَا أَسْأَلُكَ وَلَكِنْ هَلْ سَمِعْتَ فِيهِ مِنْ عَبْدِ اللهِ شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ كُنَّا مَعَ عَبْدِ اللهِ فَسَأَلْنَا عَنْهَا فَقَالَ: أَرَأَيْتُمْ إِنْ وَضَعَتْ مِنْ قَبْلِ الْأَرْبَعَةِ الْأَشْهُرِ ⦗٧٠٦⦘ وَعَشْرٍ قُلْنَا حَتَّى تَمْضِيَ قَالَ: أَرَأَيْتُمْ إِنْ مَضَتِ الْأَرْبَعَةُ الْأَشْهُرُ وَعَشْرٌ قَبْلَ أَنْ تَضَعَ قَالَ: قُلْنَا حَتَّى تَضَعَ قَالَ: فَقَالَ: تَجْعَلُونَ عَلَيْهَا التَّغْلِيظَ وَلَا تَجْعَلُونَ لَهَا الرُّخْصَةَ لَنَزَلَتْ سُورَةُ النِّسَاءِ الْقُصْرَى بَعْدَ الطُّولَى وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، فَقَالَ وَقَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو النُّعْمَانِ فَذَكَرَهُ.محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور ان کے ساتھی ان کی تعظیم کر رہے تھے گویا کہ وہ ان کے امیر ہیں۔ انہوں نے دوسری دو عدتوں کا تذکرہ کیا اور میں نے وہ حدیث ذکر کر دی جو عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ کی ہے، سبیعہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے بارے میں۔ ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں: انہوں نے مجھے گھورا تو میں سمجھ گیا اور میں نے کہا: میں جھوٹ پر حریص نہیں ہوں، اگر میں عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ پر جھوٹ کہوں تو عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ کوفہ کی ایک جانب ہیں۔ ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں: انہوں نے کچھ حیا محسوس کی اور کہا: لیکن ان کے چچا نے ان کے بارے میں کچھ بھی نہیں سنا۔ ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں کھڑا ہوا اور میں ابو عطیہ مالک بن حارث رحمہ اللہ سے ملا، میں نے ان سے سوال کیا، وہ شروع ہوئے، مجھے سبیعہ رضی اللہ عنہا کی حدیث بیان کرنے لگے۔ میں نے کہا: میں نے اس بارے میں آپ سے سوال نہیں کیا، کیا آپ نے اس بارے میں عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کچھ سنا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! ہم عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، ہم نے ان کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: تمہارا کیا خیال ہے اگر وہ چار ماہ اور دس دن سے پہلے وضع حمل کر دے تو؟ ہم نے کہا: نہیں، یہاں تک کہ وہ وضع حمل کر دے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم اس پر سختی کر رہے ہو اور ان کے لیے رخصت نہیں دے رہے، سورہ نساء چھوٹی، طویل کے بعد نازل ہوئی: ﴿وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ﴾ [سورة الطلاق: 4] ”اور حمل والیوں کی عدت وضع حمل ہے۔“
اس کو بخاری رحمہ اللہ نے نکالا ہے۔