السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العدد— عدت کا بیان
باب: عدة الحامل من الوفاة باب: حاملہ بیوہ کی عدت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، نا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي جَعْفَرٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، نا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتْ، عَنْ أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ امْرَأَةً يُقَالُ لَهَا سُبَيْعَةُ كَانَتْ تَحْتَ زَوْجِهَا فَتُوُفِّيَ عَنْهَا وَهِيَ حُبْلَى فَخَطَبَهَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ فَأَبَتْ أَنْ تُنْكِحَ فَقَالَ وَاللهِ لَا يَصْلُحُ أَنْ تَنْكِحِي حَتَّى تَعْتَدِّي آخِرَ الْأَجَلَيْنِ، فَمَكَثَتْ قَرِيبًا مِنْ عِشْرِينَ لَيْلَةً ثُمَّ نُفِسَتْ فَجَاءَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " انْكِحِي " فَكَانَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ طُلِّقَتِ الْبَتَّةَ أَنَّهُ أَمَرَهَا أَنْ تَنْتَقِلَ إِلَى ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ عِنْدَهُ قَبْلَ أَنْ تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا فَكَانَ مُحَمَّدُ بْنُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ يَقُولُ: كَانَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ إِذَا ذَكَرَتْ فَاطِمَةُ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ رَمَاهَا بِمَا كَانَ فِي يَدِهِ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ.ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے ہمیں حدیث بیان کی کہ زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے انہیں اپنی والدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی، جو نبی ﷺ کی زوجہ ہیں، کہ ایک عورت جسے سبیعہ کہا جاتا تھا، وہ اپنے خاوند کے نکاح میں تھی۔ اس کا خاوند فوت ہو گیا اور وہ حاملہ تھی۔ اسے ابوسنابل رضی اللہ عنہ نے نکاح کا پیغام بھیجا تو اس نے انکار کر دیا۔ ابوسنابل رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کی قسم! تیرے لیے نکاح کرنا درست نہیں یہاں تک کہ تو دو مدتوں میں سے آخری اختیار کر لے۔“ وہ تقریباً بیس راتیں ٹھہری رہی، پھر اسے زچگی ہوئی۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تو نکاح کر لے۔“ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ سے بات کی، جب انہیں طلاق دی گئی۔ آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر منتقل ہو جائیں، کیونکہ وہ نابینا آدمی ہیں تو وہ اپنی عدت ختم ہونے سے پہلے ان کے پاس اپنے کپڑے بھی تبدیل کر سکتی ہیں۔ محمد بن اسامہ بن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں: اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے جب بھی فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کسی چیز کا ذکر کرتیں تو ان کے ہاتھ میں جو بھی چیز ہوتی وہ اسے مار دیتے۔