السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العدد— عدت کا بیان
باب: عدة الحامل من الوفاة باب: حاملہ بیوہ کی عدت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنا الْحَسَنُ هُوَ ابْنُ سُفْيَانَ نا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَا: نا أَبُو الطَّاهِرِ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ أَبَاهُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُتْبَةَ، كَتَبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَرْقَمِ الزُّهْرِيِّ يَأْمُرُهُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَى سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ الْأَسْلَمِيَّةِ فَيَسْأَلَهَا عَنْ حَدِيثِهَا وَعَمَّا قَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ اسْتَفْتَتْهُ فَكَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ يُخْبِرُهُ أَنَّ سُبَيْعَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ سَعْدِ بْنِ خَوْلَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَهُوَ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا وَتُوُفِّيَ عَنْهَا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهِيَ حَامِلٌ فَلَمْ تَنْشَبْ أَنْ وَضَعَتْ حَمْلَهَا بَعْدَ وَفَاتِهِ، فَلَمَّا تَعَلَّتْ مِنْ نِفَاسِهَا تَجَمَّلَتْ لِلْخُطَّابِ فَدَخَلَ عَلَيْهَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ فَقَالَ لَهَا: مَالِي أَرَاكِ مُتَجَمِّلَةً لَعَلَّكِ تُرِيدِينَ النِّكَاحَ إِنَّكِ وَاللهِ مَا أَنْتِ بِنَاكِحٍ حَتَّى يَمُرَّ عَلَيْكِ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ قَالَتْ سُبَيْعَةُ: فَلَمَّا قَالَ لِي ذَلِكَ جَمَعْتُ ثِيَابِي حِينَ أَمْسَيْتُ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ⦗٧٠٤⦘ ذَلِكَ فَأَفْتَانِي " بِأَنِّي قَدْ حَلَلْتُ حِينَ وَضَعْتُ حَمْلِي فَأَمَرَنِي بِالتَّزْوِيجِ إِنْ بَدَا لِي " زَادَ أَبُو عَمْرٍو فِي رِوَايَتِهِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَلَا أَرَى بَأْسًا أَنْ تَتَزَوَّجَ حِينَ وَضَعَتْ وَإِنْ كَانَتْ فِي دَمِهَا غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَقْرَبُهَا زَوْجُهَا حَتَّى تَطْهُرَ، لَفْظُ حَدِيثِ حَرْمَلَةَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ يُونُسَ، ثُمَّ قَالَ: وَتَابَعَهُ ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ.ابن شہاب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عبیداللہ رحمہ اللہ نے انہیں حدیث بیان کی کہ ان کے والد عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ نے عمر بن عبداللہ بن ارقم زہری رحمہ اللہ کی طرف خط لکھا، وہ انہیں حکم دے رہے تھے کہ وہ سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا کے پاس جائیں اور ان سے ان کی حدیث کے بارے میں اور اس کے بارے میں سوال کریں جو انہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا، جب انہوں نے آپ ﷺ سے فتویٰ طلب کیا تھا۔ عمر بن عبداللہ رحمہ اللہ نے عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ کی طرف خط لکھا، انہیں خبر دیتے ہوئے کہ سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ وہ سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں اور وہ بنی عامر بن لؤی قبیلے سے تھے، وہ ان میں سے تھے جو بدر میں حاضر ہوئے تھے، وہ حجۃ الوداع کے موقع پر فوت ہوئے اور وہ حاملہ تھیں۔ ان کی وفات کے بعد وہ زیادہ عرصہ نہیں گزری تھیں کہ انہوں نے اپنا حمل وضع کر دیا۔ جب وہ اپنے نفاس سے فارغ ہو گئیں تو انہوں نے نکاح کے خواہش مندوں کے لیے زینت اختیار کی۔ ان کے پاس بنو عبدالدار کا ایک شخص ابوسنابل بن بعکک رضی اللہ عنہ داخل ہوا، اس نے انہیں کہا: ”تجھے کیا ہوا؟ میں تجھے دیکھ رہا ہوں کہ تو نے زینت اختیار کی ہوئی ہے، شاید کہ تو نکاح کا ارادہ رکھتی ہے، اللہ کی قسم! تو نکاح نہیں کر سکتی حتی کہ تجھ پر چار ماہ اور دس دن نہ گزر جائیں۔“ سبیعہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب اس نے مجھے یہ کہا تو میں نے اپنے کپڑے سمیٹے، جب شام ہوئی تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور آپ ﷺ سے سوال کیا، تو آپ ﷺ نے مجھے فتویٰ دیا کہ ”میں حلال ہو چکی ہوں جب میں وضعِ حمل کر چکی“ اور آپ ﷺ نے مجھے نکاح کا حکم دیا۔