السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العدد— عدت کا بیان
باب: عدة الحامل من الوفاة باب: حاملہ بیوہ کی عدت کا بیان۔
حدیث نمبر: 15467
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمُزَكِّي أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ أنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنا هِشَامٌ ح وَأنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، أَنَّ سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةَ نُفِسَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ فَجَاءَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَتْهُ فِي أَنْ تُنْكَحَ فَأَذِنَ لَهَا " وَفِي رِوَايَةِ جَعْفَرٍ قَالَ: " تُوُفِّيَ زَوْجُ سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةِ فَلَمْ تَمْكُثْ إِلَّا لَيَالِيَ يَسِيرَةً حَتَّى نُفِسَتْ، فَلَمَّا تَعَلَّتْ مِنْ نِفَاسِهَا فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَذِنَ لَهَا فِيهِ فَنَكَحَتْ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ قَزَعَةَ عَنْ مَالِكٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا اپنے خاوند کی وفات کے چند راتوں بعد زچگی کی حالت کو پہنچیں، وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوئیں اور نبی ﷺ سے نکاح کرنے کے بارے میں اجازت طلب کی تو آپ ﷺ نے ان کو اجازت دے دی؛ اور جعفر کی روایت میں ہے کہ سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا کا خاوند فوت ہو گیا، وہ چند راتیں ٹھہریں پھر وہ زچگی کو پہنچیں، جب وہ اپنے نفاس سے فارغ ہوئیں تو انہوں نے یہ معاملہ نبی ﷺ سے ذکر کیا تو آپ ﷺ نے ان کو نکاح کی اجازت دے دی، انہوں نے نکاح کر لیا۔
اس کو امام بخاری رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔