قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لِأَزْوَاجِهِمْ مَتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ} قَالَ الشَّافِعِيُّ: حَفِظْتُ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْقُرْآنِ أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ قَبْلَ نُزُولِ آيِ الْمَوَارِيثِ وَأَنَّهَا مَنْسُوخَةٌ وَأَنَّ اللهَ أَثْبَتَ عَلَيْهَا عِدَّةَ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا لَيْسَ لَهَا الْخِيَارُ فِي الْخُرُوجِ مِنْهَا وَلَا النِّكَاحُ قَبْلَهَا.امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ﴿وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لِأَزْوَاجِهِمْ مَتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ﴾ ”اور تم میں سے جو لوگ فوت ہو جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں، وہ اپنی بیویوں کے لیے ایک سال تک (گھر سے) نکالے بغیر سامانِ زندگی دینے کی وصیت کر جائیں، پھر اگر وہ (خود) نکل جائیں تو جو کچھ وہ اپنے بارے میں (دستور کے مطابق) کریں اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں۔“ [سورة البقرة: 240]“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”میں نے قرآن کا علم رکھنے والے کئی اہلِ علم سے یہ بات محفوظ کی ہے کہ یہ آیت میراث کی آیات کے نزول سے پہلے نازل ہوئی تھی اور یہ منسوخ ہے، اور اللہ تعالیٰ نے اس (بیوہ) پر چار مہینے دس دن کی عدت لازم کر دی ہے، اس میں نہ اسے عدت سے نکلنے کا اختیار ہے اور نہ اس سے پہلے نکاح کرنے کا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، نا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، نا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ نَصْرٍ الْحَذَّاءُ نا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، نا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، نا حَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: قُلْتُ، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ نا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ نا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، نا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَقُلْتُ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا} [البقرة: ٢٣٤] قَدْ نَسَخَتْهَا الْآيَةُ الْأُخْرَى فَلَمْ تَكْتُبْهَا أَوْ تَدَعْهَا قَالَ: " يَا ابْنَ أَخِي لَا أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْهُ مِنْ مَكَانِهِ " وَفِي رِوَايَةِ عَلِيٍّ لَمْ تَكْتُبْهَا وَقَدْ نَسَخَتْهَا الْآيَةُ الْأُخْرَى {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا} [البقرة: ٢٣٤]، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ بِسْطَامٍ.ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ ﴿وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا﴾ [سورة البقرة: 240] اس آیت کو دوسری آیت نے منسوخ کر دیا ہے تو آپ اسے کس لیے لکھ رہے ہیں یا اسے کیوں چھوڑ رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: اے میرے بھتیجے! میں کسی چیز کو اس کی جگہ سے تبدیل نہیں کر سکتا۔ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ایک روایت میں ہے کہ آپ اسے کیوں لکھ رہے ہیں حالانکہ اسے دوسری آیت ﴿وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا﴾ [سورة البقرة: 234] ”اور وہ تم میں سے جو فوت ہو جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ چار ماہ اور دس دن انتظار کریں یعنی عدت گزاریں۔“ نے منسوخ کر دیا ہے۔
اسے امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں امیہ بن بسطام سے روایت کیا ہے۔