السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العدد— عدت کا بیان
باب: السن التي يجوز أن تحيض فيها المرأة باب: اس عمر کا بیان جس میں عورت کو حیض آنا ممکن ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 15417
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: أَعْجَلُ مَنْ سَمِعْتُ بِهِ مِنَ النِّسَاءِ يَحِضْنَ نِسَاءُ تِهَامَةَ يَحِضْنَ لِتِسْعِ سِنِينَ.حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”میں نے جن عورتوں کے بارے میں سنا ہے ان میں سب سے جلدی حیض آنے والی تہامہ کی عورتیں ہیں، جنہیں نو سال کی عمر میں حیض آ جاتا ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ قَالَا: نا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَحْمُودٍ النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنِي عُمَيْرُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُوسَى الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنِي عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ⦗٦٩١⦘ الْمُهَلَّبِيُّ قَالَ: " أَدْرَكْتُ فِينَا يَعْنِي الْمَهَالِبَةَ امْرَأَةً صَارَتْ جَدَّةً وَهِيَ ابْنَةُ ثَمَانِ عَشْرَةَ وَلَدَتْ لِتِسْعِ سِنِينَ ابْنَةً فَوَلَدَتِ ابْنَتُهَا لِتِسْعِ سِنِينَ فَصَارَتْ جَدَّةً وَهِيَ ابْنَةُ ثَمَانِ عَشْرَةَ ".حافظ ثناء اللہ
عباد بن عباد مہلبی سے روایت ہے کہ میں نے اپنے علاقے یعنی مہالبہ میں ایک عورت کو پایا، وہ اٹھارہ سال کی عمر میں نانی بن گئی۔ اس نے نو سال کی عمر میں لڑکی کو جنم دیا اور اس کی بیٹی نے بھی نو سال کی عمر میں بچے کو جنم دیا، پس وہ اٹھارہ سال کی عمر میں نانی بن گئی۔